غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 67 ارب ڈالر سے تجازو کرگیا
The news is by your side.

Advertisement

غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 67 ارب ڈالر سے تجازو کرگیا

اسلام آباد : گزشتہ دورمیں کشکول توڑنے والی حکومت نے اس دور میں کشکول بھرنے کے ریکارڈ توڑ دیئے، اتنا قرض لیا کہ ملک کےغیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا ‌‌اور ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی ایک لاکھ سینتیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔

تفصیلات کے مطابق قرض لینے کے ریکارڈ توڑنے والی ن لیگ کی حکومت کا غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، اکتیس مئی کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں غیر ملکی قرضوں کا حجم اکانوے ارب سڑسٹھ ارب ڈالر سے تجازو کرگیا۔

رواں مالی سال میں غیر ملکی قرضوں میں 8ارب 33کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، ملک کے مجموعی قرضوں کا حجم 282 بیاسی کھرب روپے تک جا پہنچا ہے۔

آ ئین کےمطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کےساٹھ فیصد تک ہونا چاہیئے تاہم مسلم لیگ نون کے پانچ سال مکمل ہونے پر قرضے جی ڈی پی کا ستر فیصد سے زائد ہو گئے۔


مزید پڑھیں : ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ


معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کو تیرہ ارب ڈالر مزید قرض کی ضرورت ہوگی۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2020 تک پاکستان پر قرضوں کا حجم 114 ارب ڈالر ہوجائے گا۔

رپورٹ کے مطابق رواں برس 2018 میں قرضوں کا حجم 93 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے، رواں برس پاکستان کو 7 ارب 73 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ سنہ 2019 میں ادائیگیاں بڑھ کر 12 ارب 73 کروڑ ڈالر ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ نون لیگ نے ساڑھے چار سال میں تینتالیس ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا جبکہ عالمی بینک سمیت دیگر اداروں سے پندرہ ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔

سال 2018 میں بننے والی نئی حکومت کو مجموعی طور پر پچیس ارب ڈالر کے قرضے اتارنے ہونگے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں