The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی پہلی واٹر پالیسی منظور

اسلام آباد: پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔ پالیسی پر عملدرآمد کے لیے واٹر کونسل بھی قائم کردی گئی جس کی سربراہی وزیر اعظم کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا جس میں پہلی قومی آبی پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک تھے جن کی متفقہ منظوری سے پالیسی کو منظور کیا گیا۔

پالیسی کے مطابق آبی وسائل کے لیے ترقیاتی بجٹ کا 10 فیصد مختص کیا جائے گا جبکہ سنہ 2030 تک آبی وسائل کے لیے بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

واٹر پالیسی میں ہنگامی بنیادوں پر 10 ملین ایکڑ فٹ کے نئے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں آبی بحران کا خدشہ

اجلاس میں پالیسی پر عملدرآمد کے لیے واٹر کونسل بھی قائم کردی گئی جس کی سربراہی وزیر اعظم کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں آبی ذخائر اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ماہرین طویل عرصے سے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنے اور پانی کے ذخائر بڑھانے پر توجہ دی جائے۔

پاکستان میں بڑے ڈیم نہ بننے کے باعث پانی کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے۔ ملک میں صرف 30 دن کا پانی اسٹور کیا جا سکتا ہے جبکہ بھارت میں 200 اور امریکا میں 900 دن کا پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جس طرح پانی کا استعمال ہو رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سنہ 2025 میں پاکستان کو پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں