امریکی وفد نے ڈو مور کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی -
The news is by your side.

Advertisement

امریکی وفد نے ڈو مور کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے مائیک پومپیو کی سربراہی میں آنے والے امریکی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد نے ڈو مور کے برعکس ملاقات کی۔

وزیرِ خارجہ نے کہا ’ہم نے امریکی وزیرِ خارجہ کے سامنے پاکستان کا حقیقت پسندانہ مؤقف پیش کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مؤقف کا دفاع کرنا ان کی اوّلین ذمہ داری ہے، ملاقات کے حوالے سے سرد مہری کا تاثرغلط ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ڈو مور کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا، اس کے برعکس امریکا نے اپنی پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لیا ہے ، پاکستان اور امریکا ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔

امریکی وفد کے پاکستان آنے سے ماحول یک سر بدلا ہوا تھا

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ کو بتایا گیا کہ باہمی تعلقات کی بنیاد سچائی پر مبنی ہونی چاہیے، ملاقات میں امریکی خواہشات اور پاکستانی توقعات دونوں کو سامنے رکھا گیا، کیوں کہ ایک دوسرے کے معاملات سمجھے بغیر تعلقات میں پیش رفت ممکن نہیں۔


مزید پڑھیں:  امریکا سےعزت واحترام پرمبنی تعلقات چاہتے ہیں: وزیراعظم عمران خان


انھوں نے کہا ’امریکی وزیرِ خارجہ پر واضح کیا کہ تعلقات میں نئی حکومت کے مینڈیٹ کو مدِ نظر رکھنا ہوگا، کیوں کہ پاکستان کےعوام کو نئی حکومت سے توقعات وابستہ ہیں، نیز ہم اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

فیصلہ کیا ہے کہ میرا پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا ہوگا

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ پچھلے ایک سال سے پاک امریکا تعلقات تعطل کا شکار رہے، آج امریکی وفد کے پاکستان آنے سے ماحول یک سر بدلا ہوا تھا، ملاقات خوش گوار رہی، امریکا کے سامنے پاکستان کا حقیقت پسندانہ مؤقف رکھا گیا۔

شاہ محمود نے مزید بتایا کہ مائیک پومپیو نے واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے، اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد واشنگٹن جاؤں گا، تاہم میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میرا پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا ہوگا، مجھے دورۂ افغانستان کی دعوت مل گئی ہے جو میں قبول کر چکا ہوں۔

وفاقی وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکی وفد کے ساتھ خطے کی سیکورٹی اور افغانستان میں امن کے حوالے سے بات چیت کی گئی، ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ افغانستان میں قیامِ امن خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہے، ملاقات میں طالبان کو مذاکرات کے لیے موقع سے فائدہ اُٹھانے پر بھی زور دیا گیا۔

امریکی سوچ میں طالبان سے بات چیت کے لیے گنجائش بھی پیدا ہوچکی ہے: شاہ محمود قریشی

شاہ محمود نے کہا ’امریکا اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ افغانستان کا حل سیاسی ہے، امریکی سوچ میں طالبان سے بات چیت کے لیے گنجائش بھی پیدا ہوگئی ہے، امریکا افغانستان میں بہت عرصے تک قدم جمائے رکھنا نہیں چاہتا۔‘

انھوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم ایک دوسرے کا سہارا بھی ہیں، افغانستان میں امن و استحکام سے پاکستان مستفید ہوگا، پاکستان ترقی کرے گا تو اس کا فائدہ افغانستان کو بھی ہوگا، ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں