کراچی(17 جولائی 2026): غیر ملکی قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کے باعث زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں سوا ارب ڈالر کی کمی ہوگئی۔
بیرونی ادائیگیوں کے باعث پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 ارب 31 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ملک کے کل ذخائر کم ہو کر 22 ارب 67 کروڑ 55 لاکھ ڈالر رہ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سب سے بڑا دھچکا مرکزی بینک کے اپنے ذخائر کو لگا ہے، جس میں 1 ارب 24 کروڑ 52 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔
اس گراوٹ کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ کر 17 ارب 22 کروڑ 58 لاکھ ڈالر پر آ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ کمی بیرونی قرضوں اور دیگر واجبات کی ادائیگیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔
دوسری جانب تجارتی بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی 6 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر کا حجم 5 ارب 44 کروڑ 97 لاکھ ڈالر رہ گیا ہے۔


