اسلام آباد(28 نومبر 2025): پاکستانی ہر سال 90 ہزار کلو تک سونا خریدتے ہیں، لیکن 90 فیصد تجارت غیر دستاویزی رہتی ہے۔
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سونے کی سالانہ طلب 60 سے 90 ٹن تک ہے جس کی مالیت 8 سے 12 ارب ڈالر بنتی ہے، مگر اس تجارت کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ غیر دستاویزی رہتا ہے۔
کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے جاری کردہ "پاکستان کے گولڈ مارکیٹ کے مقابلے کی تشخیص” رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ملکی سونے کی 70 فیصد طلب شادیوں اور تقریبات سے جڑی ہوتی ہے۔
پاکستان سونے کی درآمدات پر بھی انحصار کرتا ہے جبکہ مالی سال 2024 میں 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا، ملک کے سرکاری ذخائر 2025 کے آخر تک 64.76 ٹن ریکارڈ کیے گئے جن کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر بنتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریکو ڈیک منصوبہ آئندہ 37 برسوں میں 74 ارب ڈالر تک کی آمدنی پیدا کر سکتا ہے، جبکہ موجودہ قیمتوں کے مطابق اس سے 1 کروڑ 79 لاکھ اونس سونا حاصل ہوگا جس کی مالیت تقریباً 54 ارب ڈالر ہے۔
تاہم سی سی پی نے خبردار کیا کہ اگر ریفائننگ، ہال مارکنگ اور ریگولیشن کے شعبوں میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ قیمتی پیداوار بھی اسی غیر رسمی نظام میں شامل ہو سکتی ہے۔
سی سی پی کے مطابق پاکستان میں سونے کی مارکیٹ بکھری ہوئی نگرانی، متعدد اداروں کی مداخلت، ہال مارکنگ کے کمزور نفاذ اور زیادہ تعمیلی اخراجات جیسے مسائل کا شکار ہے، جس کے باعث اسمگلنگ اور غیر رسمی کاروبار کو فروغ مل رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایس آر او 760 کی معطلی نے بھی ریگولیٹری ماحول کو مزید غیر مستحکم کیا ہے اور قیمتی پتھروں اور جیولری کی برآمدات میں رکاوٹ پیدا کی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


