The news is by your side.

Advertisement

آزادی صحافت انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ میں بہتری

پیرس : آزادی صحافت کے لیے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ آزادی صحافت میں پاکستان کی ریکنگ میں بہتری آئی لیکن پاکستان میں صحافیوں کو انتہا پسندوں سے شدید خطرات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرزود آؤٹ بارڈرز نے سالانہ رپورٹ جاری کردی، جس میں کہا گیا ہے کہ یورپ سمیت دنیا بھر میں صحافیوں اور میڈیا مخالف جذبات میں اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پر جمہوریت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صحافیوں کی حفاظت سے متعلق ایک سواسی ملکوں کی فہرست میں سال 2016ء کے مقابلے میں پاکستان میں آزادیٔ صحافت کے درجے میں قدرے بہتری آئی ہے، پاکستان 147 سے139 پر آگیا ہے۔

رپورٹرزودآؤٹ بارڈرکا کہنا ہے کہ 2018 میں پاکستان میں ایک صحافی کومارا گیا، پاکستان میں صحافیوں کو انتہا پسندوں سےشدید خطرات ہیں ، سرکاری اہلکار، سیاسی جماعتیں اور پارٹی کارکنان صحافیوں کو ہراساں کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اخباری اداروں میں ’از خود سینسرشپ‘ کا رواج بڑھ رہا ہے۔

صحافیوں کے حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال صحافیوں پر قاتلانہ حملے ہوتے ہیں لیکن گزشتہ چار سالوں کے دوران اِن اعداد میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔

ریورٹ کے مطابق بھارت میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا اور صحافیوں سےمتعلق صورتحال ابتر ہے،عالمی درجہ بندی میں بھارت اس برس دو درجے تنزلی کے بعد 138ویں نمبر پر آگیا۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں میڈیا کو سب سے کم آزادی بنگلہ دیش میں حاصل ہے، گزشتہ برس کی طرح امسال بھی عالمی درجہ بندی میں بنگلہ دیش 146ویں نمبر پر رہا۔

اس انڈیکس میں ناروے، سویڈن اور ہالینڈ عالمی سطح پر بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ چین 176ویں جب کہ شمالی کوریا آخری یعنی 180ویں نمبر پر رہا۔

دنیا کے ایسے پانچ ممالک جہاں گزشتہ برس صحافت اور میڈیا کی آزادی شدید متاثر ہوئی، ان میں چار یورپی ملک بھی شامل ہیں۔ مالٹا، سلوواکیہ، چیک جمہوریہ اور سربیا ’پریس فریڈم‘ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں طور پر نیچے چلے گئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں