The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں زگ زیگ ٹیکنالوجی سے مزین ایک اور بھٹہ فعال

ملتان: جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال، جہانیاں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جانے والا اینٹوں کا بھٹہ فعال کردیا گیا۔ زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بعد علاقے کے ماحول اور مقامی افراد کی صحت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔

جہانیاں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جانے والا یہ دوسرا بھٹہ ہے۔ اس سے قبل لاہور میں بھی ایک بھٹے کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد وہ پاکستان کا پہلا زگ زیگ ٹیکنالوجی سے آراستہ بھٹہ بن گیا تھا۔

بھٹے کے مالک خالد عمر کا کہنا ہے کہ زگ زیگ ٹیکنالوجی سے دھوئیں کے اخراج میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ بھٹے کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیے جانے پر ایک کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔

ماہر ماحولیات ڈاکٹر عمر غوری کے مطابق زگ زیگ ٹیکنالوجی والا بھٹہ سفید دھواں خارج کرتا ہے جو سیاہ دھوئیں کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے۔ سیاہ دھواں نہایت آلودہ اور زہریلا ہوتا ہے جو ماحول کے لیے بے حد خطرناک ہے۔

سیاہ دھواں اسموگ کا سبب بھی بنتا ہے جو شہریوں میں دمہ، سانس کی بیماریاں، آنکھوں کے انفیکشن اور پھیپھڑوں کی بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

زگ زیگ ٹیکنالوجی کے کام کرنے کے بعد مقامی افراد نے بھی علاقے کی فضائی آلودگی میں کمی محسوس کی جبکہ آلودگی کے باعث ہونے والی مختلف بیماریوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔

یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحولیات نے اسموگ کے پیش نظر 2 ہزار اینٹوں کے بھٹے 20 اکتوبر سے 31 دسمبر تک بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں