کراچی (24 فروری 2026): کم بارشیں اورغیرمعمولی حد تک بڑھتا درجہ حرارت پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کم بارشیں اورغیرمعمولی حد تک بڑھتا درجہ حرارت پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا ہے اور محکمہ موسمیات نے ایک بار پھر پھرخبردار کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ فروری میں معمول سے کم برفباری اور درجہ حرارت میں پانچ ڈگری تک اضافے کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے یعنی گلوف کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت، غذر، ہنزہ، پونجی، چلاس اور استور ان حساس ترین علاقوں میں شامل ہیں، جہاں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث نشیبی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جب کہ فروری سے اپریل تک مزید گرمی کی پیشگوئی نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جھیل کے اچانک پھٹنے کی صورت میں سیلابی ریلے آبادیوں، سڑکوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
حکام نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور مقامی آبادی کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، کیونکہ بدلتا موسم اب پہاڑوں میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان میں بڑی تباہی مچائی تھی۔ گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی ریلوں سمیت طوفانی بارشوں کے سبب ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔
سوال و جواب: ’پاکستان کو سیلاب، اب ایک نیا معمول سمجھ کر اس کے مطابق ڈھلنا ہوگا‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


