The news is by your side.

Advertisement

معروف پاکستانی گلوکار ایم کلیم کی برسی

18 نومبر 1994ء کو کینیڈا میں مقیم معروف گلوکار ایم کلیم زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ آج متعدد فلمی گیتوں‌ کو اپنی آواز دے کر یادگار بنا دینے والے اس فن کار کی برسی ہے۔ پاکستان کے اس معروف گلوکار کا اصل نام حفیظ اللہ تھا، وہ آل انڈیا ریڈیو سے بطور ٹیکنیشن وابستہ تھے اور قیامِ پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان میں‌ ملازمت اختیار کر لی تھی۔

1924ء میں پیدا ہونے والے ایم کلیم نے کراچی میں‌ ریڈیو پاکستان سے وابستگی کے دوران دوست احباب کی فرمائش پر ان کے سامنے غزل اور گیت تو‌ سنائے، لیکن اسے شوق سے زیادہ اہمیت کبھی نہیں‌ دی تھی۔

کہتے ہیں‌ ایم کلیم کی آواز مشہور گلوکار کے ایل سہگل سے مشابہ تھی، ریڈیو پاکستان میں جب ان کے ساتھیوں نے انھیں‌ سنا تو گلوکاری پر سنجیدگی سے توجہ دینے پر اصرار کیا۔ ریڈیو پر نام ور موسیقاروں اور گائیکوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور وہ بھی انھیں‌ سنتے تو تعریف کرتے اور اس میدان میں‌ قسمت آزمانے کا مشورہ دیتے۔ اس ہمّت افزائی اور مسلسل اصرار پر ایم کلیم نے 1957ء میں پہلا نغمہ “ناکام رہے میرے گیت” ریکارڈ کروایا۔ یہ نغمہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور اسی پہلے گیت سے ان کی شہرت کا سفر بھی شروع ہو گیا۔

ایم کلیم کی آواز میں سُروں کا رچاؤ بھی تھا اور گلے میں سوز و گداز بھی۔ وہ ایک اچھے موسیقار بھی ثابت ہوئے اور اس فن میں بھی اپنی صلاحیتوں‌ کا مظاہرہ کیا۔ ایم کلیم کی آواز میں‌ ایک اور گیت سامعین میں‌ مقبول ہوا جس کے بول تھے: “گوری گھونگھٹ میں شرمائے۔”

ان کی آواز میں‌ ایک غزل بھی بہت مقبول تھی، جس کا مطلع ہے۔

ان کے آنسو سرِ مژگاں نہیں دیکھے جاتے
سچ تو یہ ہے وہ پشیماں نہیں دیکھے جاتے

پاکستان کے اس معروف گلوکار کو وفات کے بعد کینیڈا ہی میں سپردِ خاک کیا گیا۔‌

Comments

یہ بھی پڑھیں