ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

ڈبلیو زیڈ احمد: فلم کی دنیا کے ایک باکمال کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستانی فلمی صنعت کے زمانۂ عروج میں جن فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے اپنی فنی مہارت اور منفرد کام کی بدولت نام و مرتبہ پایا، ڈبلیو زیڈ احمد انہی میں سے ایک ہیں۔ آج نئی نسل کے لیے تو یہ نام نیا اور نامانوس ہوگا، مگر وہ لوگ جو اب ستّر سال سے زائد عمر کے ہیں، ان کے ذہن میں شاید یہ نام کہیں محفوظ ہو۔ خاص طور پر جنھوں نے ڈبلیو زیڈ احمد کی فلم ’وعدہ‘ دیکھی ہو جو 1956ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

پاکستانی فلمی صنعت تو کب کی اجڑ چکی اور اب وہ نگار خانے ہیں اور نہ ہی وہ فن کار زندہ رہے ہیں جو فلم بینوں کے دلوں پر راج کرتے تھے۔ اسی طرح موجودہ دور میں فلمی موضوعات اور کہانیوں سے لے کر فلم سازی کی تکنیک بھی بدل چکی ہے، لیکن نصف دہائی سے زائد عرصہ پہلے تک رومانوی یا ایکشن فلمیں بہت پسند کی جاتی تھیں۔ ڈبلیو زیڈ احمد اسی دور کے ایسے فلم ساز اور ہدایت کار تھے جنھوں فلم بینوں کی پسند اور ناپسند کا خیال تو رکھا مگر اپنے کام میں معیار اور انفرادیت کو بھی جگہ دی۔ اس کی مثال ان کی فلم وعدہ تھی جو ایک عام رومانوی فلم شمار کی جاتی ہے، اور اس کا ہیرو زندگی کے نشیب و فراز سے گزر کر کام یابیوں سے ہم کنار ہوتا۔ جب وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اپنی محبوب کو اپنا سکے تو فلم میں وہ موڑ آتا ہے جو اس دور کی ہر پاکستانی فلم کا حصّہ ہوا کرتا تھا، یعنی ایک ایسا المیہ ہو جاتا ہے جو ہیرو کو اس کی محبت سے دور کردیتا ہے۔ مگر ڈبلیو زیڈ احمد نے اپنے کمالِ فن سے اس فلم کو بے مثال بنا دیا۔ ڈبلیو زیڈ احمد 15 اپریل 2007ء کو انتقال کر گئے تھے۔زندگی کے آخری برسوں میں وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں بستر تک محدود رہے تھے۔ ان کی یادداشت بھی متاثر ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام وحید الدّین ضیا تھا اور اسی مناسبت سے انھیں ڈبلیو زیڈ احمد لکھا جاتا تھا۔ وہ فلم نگری اور فلمی صحافت میں‌ اسی نام سے پہچانے گئے۔

ڈبلیو زیڈ احمد کا تعلق گودھرا کے ایک گھرانے سے تھا۔ وہ 20 دسمبر 1915ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد بسلسلۂ ملازمت وسطی اور جنوبی ہند کے مختلف اضلاع میں قیام پذیر رہے اور یوں ڈبلیو زیڈ احمد کی زندگی مختلف شہروں میں گزری۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم مکمل کرنے والے ڈبلیو زیڈ احمد نے 1936ء میں جب وہ نوجوان تھے، فلم نگری میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ 1939ء میں ان کی یہ خواہش پوری ہوگئی۔ وہ پراعتماد اور باصلاحیت تھے اور انہی صفات کی بنا پر کام یابی سے آگے بڑھے۔ پہلی مرتبہ ڈبلیو زیڈ احمد نے اسکرپٹ رائٹر کے طور پر کام کیا، مگر ان کا خیال تھا فلم کی عکس بندی بعجلت کی گئی اور انھیں یہ گمان بھی گزرا کہ شاید یہ ایک مشکل کام ہے۔ تب ڈبلیو زیڈ احمد نے ایک بڑا قدم اٹھایا اور فلم سازی کی طرف نکل گئے۔ اس کے لیے انھوں نے اگلے تین سال کے دوران پونا اور مدراس میں اپنے اسٹوڈیو تعمیر کیے اور باقاعدہ کام شروع کردیا۔ ڈبلیو زیڈ احمد نے شالیمار اسٹوڈیوز کے نام سے جس ادارے کی بنیاد رکھی تھی، اس کے تحت ان کی پہلی فلم ‘ایک رات’ ریلیز ہوئی تو اسے کام یاب کاوش قرار دیا گیا۔ یہ 1942ء کی بات ہے۔ وہ اس فلم کے ہدایت کار بھی تھے۔ اس فلم میں مرکزی کردار اپنے عہد کے باکمال اداکار پرتھوی راج نے نبھایا تھا۔ اگلے برس ڈبلیو زیڈ احمد کی ایک اور فلم پریم سنگیت منظرِ عام پر آئی جس کے ہیرو جے۔ راج تھے۔ اس کے بعد من کی جیت، غلامی نامی فلمیں بنائیں۔ من کی جیت وہ فلم تھی جس کے لیے برصغیر کے نام ور شاعر جوش ملیح آبادی نے پہلی مرتبہ نغمات تحریر کیے تھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ فلم من کی جیت کا ایک گانا بہت مقبول ہوا تھا جس کے بول تھے: اک دِل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گِرا کوئی وہاں گِرا…ناقدین نے بھی 1944ء میں بطور فلم ساز اور ہدایت کار فلم ’من کی جیت‘ پر ڈبلیو زیڈ احمد کو بہت سراہا۔ اس فلم کی کہانی ٹامس ہارڈی کے معروف ناول ’TESS‘ پر مبنی تھی۔ اس میں ہیرو شیام کے مقابل راج کماری اور نِینا نے کام کیا تھا۔ بعد میں اسی اداکارہ سے ڈبلیو زیڈ احمد نے دوسری شادی کی تھی۔ اُن کی پہلی بیوی سر ہدایت اللہ کی صاحبزادی صفیہ تھیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد ڈبلیو زیڈ احمد ہجرت کر کے لاہور آگئے اور یہاں اپنے نام سے اسٹوڈیو قائم کیا، بعد ازاں فلم کوآپریٹو لمیٹڈ کے نام سے ایک فلم ساز ادارہ بھی بنایا۔ پاکستان میں بطور فلم ساز اور ہدایت کار ان کی پہلی فلم روحی تھی جو سنسر بورڈ کے اعتراضات کی نذر ہوگئی تھی۔ مگر یہ ایک بہترین کاوش تھی۔ البتہ فلم وعدہ کو زبردست کام یابی ملی اور اس زمانہ کی ایک یادگار فلم ثابت ہوئی۔ تقسیمِ ہند سے قبل انھوں نے آخری فلم ’میرا بائی‘ بنائی تھی جو 1947ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ جب کہ پاکستان میں وہ صرف دو ہی فلمیں بناسکے اور دونوں کو فلمی ناقدین نے سراہا۔ ان کی فلم روحی کو پاکستانی فلمی تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ یہ سینسر بورڈ سے بین ہونے والی پہلی پاکستانی فلم تھی۔ سنسر بورڈ کا ایک اعتراض یہ تھا کہ فلم میں امیر اور غریب کا ایسا تصادم دکھایا گیا ہے جس سے طبقاتی سطح پر لوگوں‌ میں نفرت پیدا ہوسکتی ہے۔ ڈبلیو زیڈ احمد کی اس فلم کو معمولی کاٹ چھانٹ کے بعد سینسر بورڈ سے ریلیز کرنے کی اجازت تو مل گئی اور یہ عام نمائش کے لیے پیش بھی کی گئی، لیکن یہ ایک کوآپریٹیو سوسائٹی کے تحت پروڈیوس کردہ فلم تھی۔ اس فلم کی ریلیز کے چند دنوں بعد کوآپریٹیو بینک نے اپنا قرضہ وصول کرنے کے لیے چھاپا مارا اور فلم کا پرنٹ اٹھا کر لے گئے۔ یوں فلم روحی کے پرنٹ کو کہیں‌ ڈبّوں میں ڈال دیا گیا اور اس کا نیگٹو بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس فلم میں اداکار شمّی، سنتوش، ساحرہ، غلام محمد نے کام کیا تھا۔

ڈبلیو زیڈ احمد کو لاہور میں بیدیاں روڈ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں