The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب سے ایک لاکھ سال قدیم آثاردریافت

ریاض: سعودی محکمہ آثارِ قدیمہ نے ریاض کے نزدیک پتھر کے دور سے تعلق رکھنے والے آثار دریافت کیے جارہے ہیں ، کہا جارہا ہے کہ یہ آثار ایک لاکھ سال قدیم ہیں۔

تفصیلات کےمطابق سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ کے زیرِ اہتمام سعودی عرب اور فرانس کے مشترکہ تحقیقاتی مشن نے ریاض کے جنوب میں واقع پہاڑی سلسلے میں یہ آثار دریافت کیے ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ یہ دریافت الخرج نامی پہاڑی سلسلے میں واقعے قصبے الشدیدہ میں ہوئی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ اس علاقے سے پتھر کے دور کی کوئی سائٹ دریافت ہوئی ہے، اس سے قبل یہاں بالائی حجری (پتھر )دور کے آثار دریافت ہوتے رہے ہیں ۔

یاد رہے کہ حجری دور بیس لاکھ سال قبل شروع ہوکر دس ہزار سال قبل تک جاری رہا تھا جبکہ بالائی حجری دور 40 ہزار سال قبل شروع ہوا تھا۔ تحقیقاتی مشن میں سعودی عرب اور فرانس سے تعلق رکھنے والے 18 افراد شامل تھے جن میں سائنس داں اور آثار قدیمہ کی کھدائی کے ماہرین شامل ہیں۔

یاد رہےکہ یہ دریافت سعودی عرب اور فرانس کے درمیان سنہ 2011 میں ہونے والے معاہدے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے نتیجے میں کی گئی ہے، سعودے شہزادے سلطان بن سلمان جو کہ سیاحتی کمیشن کے سربراہ ہیں ، انہوں نے اس دریافت کو بے پناہ سراہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں