مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ، فلسطین کا امریکا کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ palestine
The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ، فلسطین کا امریکا کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطین نے امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولنے کے معاملے کو عالمی عدالت میں چیلنج کردیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلسطین نے امریکا کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولنے کے معاملے کو عالمی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے امریکا کے اس اقدام کو غیرقانونی اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کا موقف ہے کہ سفارتخانے کی منتقلی سفارتی تعلقات کے حوالے سے ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، فلسطین نے اپنی درخواست میں اعتراض اُٹھایا ہے کہ اگر امریکا نے سفارتخانہ منتقل کرنے کے لیے طے کردہ عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔

فلسطین نے عالمی عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دینے کے ساتھ سساتھ انہیں حکم دے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتخانے کے قیام سے دستبردار ہوجائے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ یہ شکایت فلسطینی ریاست کی پالیسی کے عین مطابق ہے جس کا مقصد القدس جیسے مقدس شہر کو اس کی منفرد روحانی، مذہبی اور ثقافتی اقدار کے مطابق محفوظ بنانا ہے، ہمارے لوگ حقوق کا دفاع کرتے ہیں اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہر قسم کی سیاسی اور مالی دباؤ کو مسترد کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل، اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 58 فلسطینی شہید

واضح رہے کہ رواں سال 14 مئی کو اسرائیل کے قیام کی 70 ویں سالگرہ پر امریکا نے بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ کھول دیا تھا اور اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ خصوصی طور پر اپنے شوہر جیرڈ کشنر کے ہمراہ اسرائیل پہنچی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں