امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی، فلسطین کا عالمی کورٹ سے رجوعPalestinians file claim
The news is by your side.

Advertisement

امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی، فلسطین کا عالمی کورٹ سے رجوع

ہیگ : فلسطینی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے خلاف عالمی فوج داری عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ متنازعہ علاقے میں سفارت خانے کی منتقلی بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطین کے شہر مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی اور فلسطینیوں سے امریکا کی انتقامی کارروائیوں کے خلاف فلسطینی حکومت نے عالمی فوج داری عدالت ’آئی سی سی‘ میں درخواست دائر کردی۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا تھا کہ فلسطینی حکومت نے عالمی فوج داری عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کے سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے واپس اسرائیلی دارالحکومت میں منتقل کیا جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ فلسطینی حکومت نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 1967 میں ویانا کنونشن میں طے ہوا تھا کہ سفارت خانے میزبان ملک میں قائم کیے جائیں جبکہ بیت المقدس متنازعہ علاقہ ہے۔

فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فلسطین نے بارہا امریکا کو عالمی اداروں سے رجوع کرنے کے لیے نوٹس جاری کیے تاہم امریکی ہٹ دھرمی کے بعد فلسطینی حکومت نے مجبوراً ’آئی سی سی‘ کا دروازہ کٹھکٹھایا ہے۔

فلسطینی حکومت کی جانب عالمی فوج داری عدالت میں دائر کردہ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی ادارے امریکا سمیت ان تمام ممالک کے سفارت خانے جنہوں نے عالمی قوانین کی خلاف کرتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیے ہیں واپس تل ابیب بھیجیں جائیں۔

یاد رہے کہ 14 مئی کو فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے 70 برس مکمل ہونے پر امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا گیا تھا، سفارت خانے کی افتتاحی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی سمیت 800 افراد نے شرکت کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں