The news is by your side.

اسرائیل میں فلسطینیوں کے لیے متعصبانہ شہری قانون

یروشلم: اسرائیل میں فلسطینیوں کے لیے ایک متعصبانہ شہری قانون پہلے مرحلے پر منظور ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی کابینہ کے وزرا نے اتوار کو پہلے مرحلے میں ایک بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت اسرائیلیوں سے شادی کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیل میں اپنے شریک حیات کے ساتھ رہنے کے اجازت نامے حاصل کرنے سے روک دیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر داخلہ کی جانب سے پیش کیے گئے نئے بل کے تحت فلسطینیوں پر اسرائیلی شوہر یا بیوی کے ساتھ اسرائیل میں رہنے پر پابندی عائد ہوگی، انھیں اسرائیل میں رہنے کا اجازت نامہ جاری نہیں کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا مؤقف تھا کہ اسرائیل میں یہودیوں کی تعداد کو خطرہ ہے اور اگر فلسطینیوں کو یہاں رہنے کی اجازت دی گئی تو اسرائیلیوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

اس بل کو ‘شہریت کا قانون’ کہا جاتا ہے، اسے وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی نے پاس کر لیا ہے، جس کے بعد اب یہ حتمی قانون سازی کے عمل کے لیے تیزی سے آگے بڑھے گا، 9 وزرا کی جانب سے بل کی حمایت کی گئی۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیا شہریتی قانون اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں اکثریتی ووٹ کے بعد اسے قانون کی شکل دے دی جائے گی۔

دوسرے انتفادہ کے عروج پر فلسطینیوں کے حملوں کو روکنے کی کوشش میں اس قانون کو متعارف کرایا گیا تھا، 2003 کے شہریت اور داخلہ کے اس قانون نے بڑی حد تک ان فلسطینیوں کو مستقل رہائش حاصل کرنے سے روک دیا تھا جنھوں نے اسرائیلیوں سے شادی کی تھی۔ بعد میں کچھ جوڑوں کے لیے دو قسم کے اجازت نامے حاصل کرنے کے لیے مستثنیات تیار کی گئیں جن میں رہائش دی گئی تھی۔

یہ قانون اپنے آغاز ہی سے انتہائی متنازعہ رہا ہے، کیوں کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے فلسطینیوں اور عرب اسرائیلیوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا، سپریم کورٹ نے طویل قانونی جنگ کے بعد 2012 میں 6-5 کے فیصلے میں اس قانون کو برقرار رکھا۔

لیکن حکومتی اتحاد پچھلے سال اس قانون کی تجدید کرنے میں ناکام رہا تھا، اور اس کی میعاد ختم ہو گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں