The news is by your side.

Advertisement

پیلٹ گن کا استعمال: 1،314 کشمیری شہری بصارت سے محروم

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں پیلٹ گن کے استعمال کے سبب اپنی بینائی سے ہاتھ دھونے والے کشمیریوں کی تعداد تیرہ سو سے زائد ہوچکی ہے‘ پیلٹ گن کا استعمال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری کردہ اسٹڈی کے مطابق دستیاب میڈیکل شواہد بتاتے ہیں کہ سنہ 2016 سے اب تک کشمیر میں پیلٹ گن کا نشانہ بن کر اپنی بینائی سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد 1،314 ہوچکی ہے‘ بھارتی افواج کشمیر میں اپنے حقِ آزادی کے لیے مظاہرہ کرنے والے افراد پر یہ خطرناک ہتھیار طویل عرصے سے استعمال کررہی ہے ‘ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اس کے استعمال میں تیزی آئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ بظا ہر غیر مہلک کہلایا جانے والا یہ ہتھیار اس قدر مہلک ہے کہ وادی میں اسکے استعمال سے ہلاکتوں کے واقعات بھی ریکارڈ پر آئے ہیں‘ بھارتی فوج سنہ 2010 سے مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال کررہی ہے۔

گلوبل جرنل آف میڈیکل ریسرچ( امریکا ) نامی عالمی جریدے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیلٹ گن کے استعمال سے کشمیری شہریوں کی بصارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے‘ اس گن سے پیش آنے والے زخموں کے سبب بصارت میں کمی‘ موتیا‘ اور ریٹینا کے متاثر ہونے کے واقعے پیش آرہے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد مکمل طور پر بینائی سے محروم ہوچکی ہے۔

یا درہے کہ یہ تحقیق امرتسر کے ایک آئی اسپتال میں ڈاکٹروں کی جانب سے کی گئی ہے جہاں کشمیر سے پیلٹ گن کے متاثرہ مریضوں کی بڑی تعداد علاج کرانے آتی ہے‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک ہتھیار سے متاثرہ مریضوں کی بصارت واپس بحا ل ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

پیلٹ گن گن فائر – وادی ٔ کشمیر میں اوکیولر موربیڈیٹی کا بنیاد ی سبب کے عنوان سے ہونے والی ایک اور تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گن سے متاثرہ افراد کی بینائی بحال ہونے کے امکانات جدید ترین سرجری کے باوجود بھی انتہائی کم ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ پیلٹ گن کے متاثرہ 50 فیصد سے زائد افراد جب اسپتال میں آتے ہیں تو وہ روشنی کو محض محسوس ہی کرسکتے ہیں اور ان میں سے صرف 35 فیصد ہی ایسے خوش نصیب ہوتے ہیں جو متاثرہ آنکھ سے دوبارہ ٹھیک سے دیکھ پاتے ہیں ۔ زیادہ تر افرا د علاج کے بعد محض چھ میٹر تک دیکھ پاتے ہیں جبکہ اسٹینڈرڈ حدِ نگاہ 60 میٹر ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2016 میں کشمیری مجاہد برہان وانی کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد وادی میں تحریکِ آزادی ایک بار پھر پورے زور وشور سے اٹھی جس کے بعد فورسز نے کشمیریوں کو کثیر تعداد میں پیلٹ گن کا نشانہ بنا یا جانے لگا۔ اب تک 1253 افراد کا علاج صرف سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتا ل میں کیا جاچکا ہے۔

پیلٹ گن سے ہونے والے بصارت کے نقصان کو عالمی برادری تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور اسے بنیادی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جارہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں