The news is by your side.

Advertisement

پام آئل کے بحران نے افریقہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

عابد جان : آئیوری کوسٹ میں ایک سڑک کے کنارے پر پکوڑوں کا اسٹال لگانے والے نوجوان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمیت میں اضافے سے ہمارا کاروبار بھی بند ہوسکتا ہے۔

اس نوجوان کا کہنا ہے کہ میں مزید کام کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ میں نے سوچتا ہوں اگر تیل کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے تو میں کیا کماؤں گا؟۔

روس اور یوکرین پام آئل پیدا نہیں کرتے ہیں کیونکہ یہ گرم علاقوں میں پیدا ہونے والی اجناس ہے لیکن روس کے حملے نے آج کی پیچیدہ طور پر باہم جڑی ہوئی عالمی معیشت پر دستک کے اثرات کو جنم دیا ہے۔

روس یوکرین تنازعہ پام آئل کی قیمتوں میں اضافے کا بڑا سبب ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعہ سے خوراک کی قیمت کا بحران مزید گہرا ہوگا جس کا خمیازہ غریب افراد کوبھگتنا پڑے گا۔

عالمی حالات کے اس تناظر میں پام آئل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک انڈونیشیا کو حالیہ دنوں میں کچھ برآمدات پر پابندی لگانے پر مجبور کردیا تاکہ قیمتوں پرقابو رکھا جا سکے۔

زرعی اجناس کی کنسلٹنسی ایل ایم سی انٹرنیشنل کے بانی جیمز فرائی نے کہا ہے کہ ہم نے واقعی اس قسم کی صورتحال کا کبھی سامنا نہیں کیا، یہ افریقہ کے بڑے ممالک ہیں جنہیں یقینی طور پر اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے پورے ریجن میں پیٹرول اور تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور ساتھ ہی لاکھوں افریقی وبائی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں اس کی وجہ سے لوگ انتہائی غربت زندگی گزار رہے ہیں۔ پام آئل کی قیمتوں میں اضافہ بہت سے لوگوں کو سخت فیصلہ کرنے پر مجبور کردے گا۔

اس کے علاوہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں بیوٹی انڈسٹری کی ایک کنسلٹنٹ لوسی کمانجا نے کہا کہ پام پر مبنی کوکنگ آئل میں 90 فیصد اضافے کا مطلب ہے کہ انہیں پھلوں اور گھریلو ضروریات میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں بہت پریشان ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ ہم کہاں جا رہے ہیں کیونکہ کھانے کی قیمت تقریباً دوگنی ہوگئی ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ عام لوگ کیسے زندہ رہیں گے۔

یوکرین میں لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی مہنگائی عالمی سطح پر باعث تشویش بن چکی تھی، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق گزشتہ سال اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 23 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جو کہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ہے۔

رواں سال مارچ میں گوشت، ڈیری، چینی اور تیل کی عالمی قیمتوں کا اعشاریہ فروری سے 12.6فیصد کی "بڑی چھلانگ” کے بعد1990 کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ کھانا پکانے کے تیل سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مصنوعات میں شامل ہیں۔

خشک سالی نے ارجنٹائن سے سویا بین تیل کی برآمدات اور کینیڈا میں ریپ سیڈ کی پیداوار کو تباہ کردیا۔ انڈونیشیا میں خراب موسم اور ملائیشیا میں کوویڈ سے متعلقہ امیگریشن پابندیوں نے پام آئل کی پیداوار کو روکا جو باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کی کمی کا باعث بنا۔

رواں سال مارچ میں پہلی بار پام آئل ہندوستان کے چار بڑے خوردنی تیلوں میں عارضی طور پر سب سے مہنگا ہو گیا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ افریقہ کا تیل قابل اعتماد طور پر سب سے سستا تھا ختم ہوسکتا ہے۔

جیروم کانگا جو آئیورین قصبے اڈیکے کے قریب دو ہیکٹر پر کھیتی باڑی کرتے ہیں نے کہا کہ وہ تین سال قبل پیداوار شروع کرنے کے بعد ملنے والی قیمتوں سے مایوس ہیں لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ دسمبر سے اور خاص طور پر فروری اور مارچ میں قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

این اوبانیہ جو لاگوس نائیجیریا میں کھانے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتی ہیں نے کہا کہ وہ جو ریفائنڈ ریڈ پام آئل خریدتی ہیں، اس کی قیمت صرف پچھلے مہینے میں تقریباً 20 فیصد بڑھ گئی ہے، چھ بچوں کی ماں نے مزید کہا کہ مجھے پام آئل کے بغیر کھانا پکانا نہیں آتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں