The news is by your side.

Advertisement

پالپا اورپی آئی اے کا تنازع شدت اختیار کرگیا

کراچی : پالپا اور پی آئی اے کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے، دو پائلٹس کے خلاف کارروائی پر کپتانوں نے احتجاج کو مزید سخت کردیا، پی آئی اے کے پائلٹس کا احتجاج بدستور جاری ہے، پائلٹس نے اڑان بھرنے سے انکار کردیا ہے، احتجاج کے سبب دوروز میں اڑتیس پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں.

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا ڈیڈلاک نہیں ہے مذاکرات جاری ہیں جبکہ صدر پالپا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے کسی کوبلایا نہیں گیا.

اے آر وائی نیوز سے بات چیت میں ترجمان پی آئی اے عامر متین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے، اڑتیس فلائٹس منسوخ ہوچکی ہیں جس کی وجہ مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

صدر پالپا عامر ہاشمی اے آر وائی نیوزکو بتایا کہ ورکنگ معاہدے کو پی آئی اے انتظامیہ مان نہیں رہی، ایک پائلٹ افرادی قوت کم ہونے کی وجہ سے ڈبل ڈیوٹی دے رہا ہے، عامر ہاشمی نے کہا کہ ڈائریکٹر پی آئی اے اپنی نوکری بچانے کے لیے ایسے اقدامات کررہے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ قومی ایئرلائن کونقصان پہنچے، وثوق سے کہتا ہوں کہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں.

ترجمان پی آئی کا کہنا ہے کہ پائلٹس کےلائسنس پی آئی اے نےنہیں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے معطل کیے، پالپا کی ہڑتال سے اب تک متعدد پروازیں منسوخ اور ایئرلائن کاکروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ پالپا لیڈر شپ ذاتی مفادات کیلئے ایئرلائن انتظامیہ کوبلیک میل کررہی ہے، انہوں نے اپیل کی ہے کہ پائلٹس ملکی مفاد کی خاطر ہڑتال ختم کرکے واپس آجائیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بلااجازت پرواز اڑانے پر پائلٹ کلیم کا لائسنس ایک سال اور کپتان زاہد کا لائسنس دو سال کیلئے معطل کردیا ہے، پالپا نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر فلائٹ آپریشن کو برطرف کیا جائے اور منسوخ کئے گئے دو پائلٹس کے لائسنس بحال کئے جائیں ۔

تنازعہ کے سبب مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، دو روز میں تیس سے زائد ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں.

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں