site
stats
اے آر وائی خصوصی

وزیراعظم نے پانامہ کیس کا سارا ملبہ اپنے مرحوم والد پر ڈال دیا‘ عاجز دھامرہ

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کاپاک فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنا بہت بڑی کامیابی ہے ، احسان اللہ احسان کا شمار تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے ،ان کا سرنڈرکرنا تحریک طالبان پاکستان کے لئے بڑا دھچکا ہے، طالبان کمانڈر سمجھ گئے ہیں کہ اب ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔پیپلز پارٹیہ کے عاجز دھامرہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پانامہ کیس میں دفاع کے لیے سارا ملبہ اپنے مرحوم والد پرڈال دیا


مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے نیچے اسکرول کریں


ان خیالات کا اظہاردفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر) اعجاز اعوان نے اے آر وائی نیوزکے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان نے چونکہ خود ہی سرنڈر کیا ہے لہٰذا تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ تحریک طالبان پاکستان کے پیچھے کن قوتوں کا ہاتھ ہے، اور ان کی فنڈنگ کہاں سے ہورہی ہیں اور ملک کے اندر کون ان کے حامی ہیں ۔

جنرل (ر)اعجاز اعوان نے کہا کہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ طالبان کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اور ان میں اب مزید مذاحمت کی طاقت نہیں رہی ۔انہوں نے کہا کہ جب ہم بات کررہے تھے کہ تحریک طالبان پاکستان کو غیر ملکی حمایت حاصل ہے تو بعض ناقدین ہماری اس دلیل کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، پاک فوج تو عرصے سے کہہ رہی تھی کہ طالبان کو را اور دوسرے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت حاصل ہے ۔ اگر تفتیش کے دوران احسان اللہ احسان نے اس کی تصدیق کی تو سارا کچھ کھل کے سامنے آجائے گا۔

کلبھوشن یادو کیس


کلبھوشن یادیو کے کیس کے حوالے سے اعجاز اعوان نے کہا کہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعدجب وزیر اعظم میاں نواز شریف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کے لئے گئے تھے تو اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو بتاناچاہئے تھا کہ بھارت پاکستان کے اندر ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے اس وقت ہمارے پاس تین مضبوط ثبوت تھے یعنی بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری عمل میں آئی تھی اور اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا تھا، دوسرا نریندر مودی نے بیان دیا تھا کہ گلگت بلتستان کے کچھ لوگ ہمارے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور تیسرایہ کہ نریندر مودی نے بنگلہ دیش میں جاکر پاکستان توڑنے میں بھارت کے کردار کا اعتراف کیاتھا۔ اگر وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ان تینوں شواہد کو دنیا کے سامنے پیش کرتے تو دنیا میں پاکستان کا مقدمہ مضبوط ہوتا۔

اعجاز اعوان نے کہا کہ حکومت پاکستان کو اب احسان اللہ احسان کے بیانات کو اقوام متحدہ میں لے جاکر دنیا کو بتانا چاہئے کہ کس طرح بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندر ریاستی دہشت گردی کی جارہی ہے ۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما عاجز دھامرہ نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شدت پسندی کی جانب راغب ہونے سے متعلق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں پروان چڑھنے والی انتہا پسندی صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اس سے قبل لاہور کے جامعات سے شدت پسندانہ خیالات پر مبنی لٹریچر برآمد ہوا ۔ مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں حالیہ واقعہ اس امر کا غماز ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں شدت پسندی کو فروع مل رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں موجود انتہا پسندانہ مواد سے نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

سب سے بھاری ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ ان کے بچوں کا کس قسم کے لوگوں سے تعلق ہے اورسوشل میڈیا میں کیا دیکھتے ہیں ۔ والدین کو بچوں پر کڑی نظررکھنے کی ضرورت ہے ۔تعلیم یافتہ نوجوانوں کا اس طرح شدت پسندی کی جانب مائل ہوناایک خطرناک عمل ہے۔

شدت پسندی کی روک تھام


رہنما پاکستان تحریک انصاف اسدعمر کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی روک تھا م کے لئے دو پہلوئوں پرخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے پہلا یہ کہ ریاست ایسے قوانین بنائے جو ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے موثر طریقے سے نمٹنے میں مدددیں۔اس کے علاوہ موجودہ قوانین پر موثر عمل درآمد کویقینی بنائے۔اگر ملک میں انصاف کا نظا م رائج نہیں ہوگا تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میںلینے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے ملک میں قانون نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کا ایک معاشرتی پہلو بھی ہے اس ناسور کا خاتمہ اکیلے حکومت نہیں کرسکتی بلکہ اس سلسلے میں سول سوسائٹی ، میڈیا اور دانشوروں کو بھی اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔

اعجاز اعوان نے کہا کہ دہشت گردی کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں البتہ ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی سرے سے موجود نہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے میرٹ کی پامالی اور انصاف کا فقدان ایسے عوامل ہیں جو انتہا پسندی کو بڑھنے میں مدد دیتے ہیں لوگ سوچتے ہیں کہ اگر سو افراد کو قتل کریں تو کچھ نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قانون پر موثر طریقے سے عمل درآمد نہ ہونا انتہاپسندی کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔

ڈان لیکس کے حوالے سے وزیرداخلہ اور پھر آئی ایس پی آر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے عاجز دھامرہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت دہرے معیار پر گامزن ہے پانامہ لیکس میں حکمران خاندان کا نام آیا تو قطری خط پیش کیاگیا، جبکہ ڈان لیکس پر وزیر اطلاعات پرویز رشید کوقربان کیا گیا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ لگتا نہیں کہ ڈان لیکس کے معاملے پر حکومت اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہیں۔ جب ڈان لیکس کا معاملہ سامنے آیا تو وزیر داخلہ نے چار دن میں تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر لانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب اُس کو چھ ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔

پانامہ کیس


وزیر اعظم نے پانامہ کیس کا جس انداز سے دفاع کیا سارا کچھ اپنے مرحوم والد کے سر پرڈال دیا۔ اب لگتا ہے کہ ڈان لیکس پر خود کو بچانے کے لئے وزیر اعظم اپنے بچوں کی قربانی دینے سے دریع نہیں کریں گے ۔ اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس ایک پیچیدہ مسئلہ ہے تبھی تو چھ ماہ تک اس کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی اورپرویز رشید کی قربانی دے کر اس مسئلے کورفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اتنا سنجیدہ ایشواتنی آسانی سے دبایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کے ملزموں پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 3کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہئے۔

رہنما پی ٹی آئی اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے بعد لگتا نہیں کہ ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کاروائی ہوگی۔ کسی بڑے شخص کو بچانے کے لئے وزیر اطلاعات کو قربان کیا گیا ۔ عاجز دھامرہ کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس کا معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں ۔ ہمیں رپورٹ آنے کا انتظار کرنا چاہئے، خدا کرے کہ ڈان لیکس رپورٹ کے ساتھ سانحہ کوئٹہ رپورٹ جیسا سلوک نہ ہو۔ سرے محل کیس سے متعلق عاجز دھامرہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیاسی کیس تھاجس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اگر کیس درست ہوتا تو اربوں روپے لگانے کے باوجود کوئی نتیجہ کیو ں سامنے نہیں آیا؟اسد عمر نے کہا کہ زرداری صاحب سالہا سال سے سرے محل کی ملکیت تسلیم نہیں کی ،لیکن جونہی یہ پراپرٹی ہاتھ سے نکل گئی تو فوراً اس کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے ریاستی ادارے تباہ ہوچکے ہیں، پانامہ کیس کی سماعت کے دوران ججز نے ریمارکس دئیے کہ نیب کی تدفین ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کی حفاظت کے لئے رینجرز کی تعینانی کی باتیں اس لئے ہورہی ہیں کہ جب پچھلی بارسپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا تھا تومیاں صاحب نے اپنے حامیوں کے ہمراہ سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا تھا اب بھی اس قسم کے خدشات پائے جاتے ہیں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک
وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top