پانامہ کیس، وزیراعظم کےبیٹے قطری شہزادے کا ایک اور خط لے آئے -
The news is by your side.

Advertisement

پانامہ کیس، وزیراعظم کےبیٹے قطری شہزادے کا ایک اور خط لے آئے

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں پاناماکیس کی سماعت جاری ہے، حسن اور حسین نواز نے قطری شہزادے کا ایک اور خط سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جبکہ جماعت اسلامی کی درخواست پر وزیراعظم نے بھی جواب عدالت میں جمع کرادیا۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ پاناماکیس کی سماعت کررہا ہے، مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ مریم نوازکے زیرِ کفالت نہ ہونے پردلائل دوں گا۔

حسن اور حسین نواز نے اپنا جواب اور قطری شہزادے کا ایک اور خط سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا،  وزیر اعظم کے صاحبزادوں نے جواب میں دبئی اسٹیل مل اور قطری شہزادے کے کاروبار کی تفصیل بھی بتائی ہے اور کہا گیا ہے کہ حماد بن جاسم کا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔

letter

جواب کےمطابق دبئی اسٹیل مل، بینکوں اور دبئی حکومت کے تعاون سے بنائی گئی۔

حسن اور حسین نوازنےقطری شہزادے کا ایک اور خط سپریم کورٹ میں جمع کرادیا، یہ خط 22 دسمبر کا ہے دوسرا خط پہلے خط کے سوالات کے تنا ظر میں لکھاگیا ہے، قطری خط میں بتا یا گیا ہے قطر میں کی گئی سرمایہ کاری کیش کی صورت میں کی گئی، سرمایہ کاری کے وقت قطر میں کاروبار کیش کی صورت میں ہی کیا جاتا تھا۔

قطری خط کے مطابق دو ہزار پانچ میں کارروبار کے زمرے میں اسی لاکھ ڈالر بقایا تھے۔ اسی لاکھ ڈالر کے بقایا جات نیلسن اور نیسکول کے شیئر کی صورت میں ادا کیے گئے۔

سپریم کورٹ میں  حسن اور حسین نواز نے عزیزیہ اسٹیل مل، سعودی عرب اور دبئی فیکٹری کے خریدو فروخت کی دستاویزات بھی پیش کر دیں، جبکہ طارق شفیع کا بیان حلفی بھی انکے جواب میں شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کی درخواست پر وزیراعظم کی جانب سے جواب عدالت میں جمع

جماعت اسلامی کی درخواست پر وزیراعظم کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرادیا گیا، جواب میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے اسمبلی میں خطاب کے دوران غلط بیانی نہیں کی، بطور رکن اسمبلی اور وزیر اعظم حلف کی خلاف ورزی نہیں کی، لندن فلیٹس وزیر اعظم کی ملکیت نہیں ۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ان چاروں فلیٹس میں سے کسی کے بینیفشل آنر  نہیں۔

 مریم نواز کے وکیل کے دلائل

وکیل نے دلائل میں کہنا ہے کہ مریم نواز کے انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ عدالت کو فراہم کیا جائیگا، مریم نواز نے انٹرویو میں الزامات کا جواب دیا، شادی شدہ خاتون زیرکفالت کی تعریف میں نہیں آتی۔

جسٹس آصف نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ زیر کفالت میں 2 کا ذکر ہونے کا مطلب کیا ہے، جس کے جواب میں وکیل شاہد حامد نے کہا کہ اس کا مطلب ایک وہ خود اور دوسرا ان کی اہلیہ ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 2011کے ٹیکس فارم میں مریم کو زیرِ کفالت دکھایا گیا ہے۔

وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل میں کہا کہ شادی شدہ خاتون والدین کے ساتھ رہے تو زیر کفالت کے دائرے میں آئے گی، زیرکفالت کی خاص تعریف نہیں
زیرکفالت میں بزرگ، بیروزگار افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے ، زیر کفالت کے معاملے پر انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے، زیرکفالت کی تعریف میں بیوی، نابالغ بچے بھی آتےہیں، مریم نواز کے انٹرویو کا متن تیار ہوکر آگیا ہے، جمع کرا رہا ہوں۔

شاہد حامد نے کہا کہ غیر شادی شدہ بیٹی کی ذرائع آمدن نہ ہو تو وہ زیر کفالت ہوگی۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ انکم ٹیکس قانون میں دیگر کا خانہ زیر کفالت کی کیٹیگری ہے، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس قانون میں مخصوص کیٹیگری2015میں شامل کی گئی۔

جسٹس شیخ عظمت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم آپ کی معاونت سے قانون کی تشریح کرسکتےہیں، اپنی اہلیہ بچوں کے نام پر جائیداد رکھیں تو کیا وہ بے نامی ہوگی۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مشترکہ خاندانی کاروبار ہو، بچے بڑے ہوچکے تو کیا صورتحال ہوگی؟

جسٹس آصف سعید نے سوال کیا کہ مشترکہ کاروبار میں کیا تمام بچے زیر کفالت تصور ہوں گے؟ شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے واضح تعریف نہیں کی جا سکتی،کیس ٹوکیس معاملہ ہوتا ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کوئی شخص خاندان کا سربراہ ہو تو بچے اور انکے بچے زیرکفالت ہونگے؟

جسٹس آصف سعید نے کہا کہ کاروباری خاندان میں مضبوط آدمی ایک ہوتا ہے ، وہ مضبوط شخص پورےخاندان کو چلاتا ہے، کیا ہم پورے خاندان کو بلاسکتے ہیں، جو مضبوط شخص کے زیرکفالت ہیں، بالغ بچے کاروبار کے باوجود خاندان کے بڑے سے خرچہ لیتےہیں،  کیا وہ بھی زیرکفالت تصور ہوں گے۔

وکیل شاہد حامد نے کہا کہ جذباتی اور ثقافتی  طور پر زیر کفالت ہوتے ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ نیب قانون میں بھی زیرکفالت کی تعریف نہیں کی گئی، ڈکشنری کے مطابق دوسرے پر انحصار زیرکفالت ہوتا ہے، قانون واضح نہ ہو توعام ڈکشنری کے معنی ہی استعمال ہوں گے۔

وقفے کے بعد سماعت کے آغاز پر وکیل شاہد حامد کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو بچوں سےملنے والےتحائف کا گوشوارہ کل جمع کرادوں گا۔

جسٹس اعجاز افضل نے سوال کیا کہ بی ایم ڈبلیوگاڑی کی فروخت پر اتنا منافع کیسے ہوا؟ وکیل شاہد حامد کا جواب میں کہنا تھا کہ 2006  میں حسن نے لندن میں بی ایم ڈبلیو خرید کر دبئی بھجوادی، 2سال بعد گاڑی مریم نواز کو تحفے میں دے دی، مریم نے 37لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کرکے گاڑی حاصل کرلی۔

شاہد حامد نے مزید کہا کہ  ایک کمپنی نے پرانی بی ایم ڈبلیو کی قیمت 2کروڑ 80لاکھ لگائی، جس پر جسٹس عظمت نے کہا کہ  آپ کہہ رہے ہیں نئی گاڑی کی خریداری کیلئے پرانی گاڑی مجوزہ قیمت پربیچ دی ، اس لئے منافع کی رقم میری موکلہ کے پاس نہیں آئی۔

وکیل نے دلائل میں کہا کہ عدالت مختلف مقدمات میں  معاون مقرر کرتی رہی ہے، مجھے اعتراض نہیں  عدالت اس کیس میں کسی کو  معاون مقرر کر دے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کی عدالتی معاون مقرر کرنے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے، مقدمے میں ہر فریق کا وکیل بہتر انداز میں دلائل دے رہا ہے،  ہمارے سامنے شیخ رشید نے بھی مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہنسیں نہیں یہ بات جج صاحب نے سنجیدہ انداز میں کی ہے۔

مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے  پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کو خوش آمدید کہا تھا، جس پر قاضی حسین احمد نے بھی تو اس فوجی آمریت کو خوش آمدید کہا تھا۔

جسٹس عظمت سعید  نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ باتیں بیت گئیں ان باتوں کو جانے دیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ وکلا اپنے دفاع کو تبدیل کر رہے ہیں۔

مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ عوامی مفاد کے تحت دائر درخواستیں نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہیں، اس کیس کو سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا، جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس میں درخواست گزار کی بد نیتی کیا ہے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے سامنے 3مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی درخواستیں ہیں، آپ یہ نہیں کہہ سکتے  کوئی ایک سیاسی مخالف عدالت آیا ہے۔

شاہد حامد نے ذاتی عناد پر مخالف فریق کے خلاف کیسوں کے عدالتی حوالہ جات پیش کیے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ  یہ عوامی مفاد کی درخواستیں ہیں اور پاکستانی شہری سچ جاننا چاہتے ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اسی لیے ہم تمام وکلا کو بولنے کا پورا موقع دے کر صبر سے سن رہے ہیں۔

جسٹس کھوسہ نے شاہد حامد سے استفسار کیا کہ سماعت مکمل ہونے پر عدالت کے ذمہ بہت بڑا کام ہے، تمام آپشنز کھلی رکھی ہی
کیا کل گیارہ بجے تک آپ دلائل مکمل کر لیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ شاہد حامد نے جواب میں کہا کہ اس سے بھی جلدی دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ   آپ کے بعد سلمان اکرم راجا دلائل کا آغاز کریں گے۔

بڑالیڈربنا پھرتا ہے نوازشریف کی بیٹی سے ڈرتا ہے، طارق فضل چوہدری

سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت میں وقفے کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ماضی میں سیاستدانوں پربڑے بڑے الزامات لگتے رہے ہیں، کسی نے سامنے آکر کبھی الزامات کا جواب نہیں دیا ہے،  مخالفین نے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ  بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے نوازشریف کی بیٹی سے ڈرتا ہے، تحریک انصاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے،ثبوت کوئی نہیں دیا، پٹیشن میں مریم نوازشریف کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے،  کسی کوشک نہیں مریم نواز وزیراعظم کی زیرکفالت نہیں ہے، تحریک انصاف والے ثبوت دیتے نہیں روز الزام نیا لگا دیتے ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے لوگ اربوں کے تحائف دیتے رہے۔

جرمنی اخبار کی دستاویزات میں سوئس بینکوں سے قرضہ لینے کے ثبوت ہیں، فواد چوہدری

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جرمنی کے اخبار نے کچھ نئی دستاویز شائع کی ہیں، دستاویزات میں سوئس بینکوں سے قرضہ لینے کے ثبوت ہیں، جرمن اخبار نے دستاویزات گزشتہ رات شائع کی ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ثابت ہوتا ہے کہ تینوں بچوں نے7ملین پاؤنڈ قرضہ لیا ، نیا ثبوت سامنے آیا ہے اب معاملہ لندن تک نہیں رکے گا، مریم نواز کے ان تمام معاملات میں دستخط سامنے آئے ہیں۔

شریف خاندان جعلی دستخط کرتا ہے، شیخ رشید

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا شیخ رشید کا سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ جب تک معاشرہ کرپشن سے پاک نہیں ہوگا ، عوام کی ترقی نہیں ہوگی، شریف خاندان جعلی دستخط کرتا ہے، قطری خط سمیت تمام دستاویزات کی بنیاد ہی جعلی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ مکمل طور پر با اختیار ہے جسے چاہے ریلیف دے سکتی ہے۔

پاناماکیس میں ایک فریق عوام اوردوسراحکومتی ٹولہ ہے، امید ہے عوام جیت جائیں گے، سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاناماکیس میں ایک فریق عوام اوردوسراحکومتی ٹولہ ہے، امید ہے عوام جیت جائیں گے، حکومتی وکلاکے دلائل کے ساتھ الفاظ بھی ختم ہوگئے ہیں، ایک کے بعد ایک وکیل آرہا ہے لیکن بات نہیں بن رہی۔

سراج الحق نے کہا کہ حکومت کے پاس دولت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، اب بھی کرپشن کیخلاف کوئی فیصلہ نہیں ہوا تو پھر کبھی نہیں ہوگا، کرپشن کے خاتمے کیلئے 5ہزار افراد جیل جائینگے تو یہ بڑی بات نہیں، پاکستان کیلئے کرپشن بھارت سے بھی بڑا خطرہ ہے، کیس کےبعدان تمام لوگوں کااحتساب ہوناچاہئے، جن کے نام پاناما میں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے قوم کو چاروں طرف سے محاصرےمیں لیا ہوا ہے، کرپشن کےخلاف ہم نے فیصلہ کن لڑائی شروع کردی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں