پانامہ کیس، وزیر اعظم نوازشریف نے عدالت سے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا -
The news is by your side.

Advertisement

پانامہ کیس، وزیر اعظم نوازشریف نے عدالت سے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا

اسلام آباد: پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ، وزیر اعظم نوازشریف نے عدالت سے آرٹیکل  248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا جبکہ مریم نواز نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت کے پانچ رکنی لارجربینچ نے کیس کی سماعت کی، پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ، وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس کھوسہ کا کہنا ہے گزشتہ روز  پارلیمانی کارروائی عدالت میں چیلنج نہ ہونے کا ذکر کیا تھا، نیوزی لینڈ کے ارکان اسمبلی نے فلور پر تقریر اور میڈیا پر کہا اپنی بات پر قائم ہیں،  عدالت قرار دے چکی پارلیمنٹ میں تقریر بطور ثبوت استعمال کی جاسکتی ہے۔

جسٹس کھوسہ نے مزید کہا کہ برطانوی عدالت ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے ، کرپشن کو پارلیمانی استثنیٰ حاصل نہیں، آئین کے آرٹیکل 68کے تحت ججز کا کنڈکٹ بھی پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں آتا۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسمبلی میں ججز  کنڈکٹ کی بات ہو تو پارلیمانی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا،  آرٹیکل 68 اور204 ججز کنڈکٹ پر بات کرنے سے روکتے ہیں،  صدر، وزیر اعظم اور گورنرز کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے، وزیر اعظم کو استثنیٰ امور مملکت چلانے پر ہوتا ہے۔

مخدوم علی خان کی جانب سے چوہدری ظہور الٰہی کیس کا حوالہ دیا گیا تو جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ ظہور الٰہی کیس میں وزیراعظم نے تقریر اسمبلی میں نہیں کی تھی،  ظہور الہی کیس کا حوالہ دینے سے متفق نہیں۔

وزیراعظم نوازشریف نے عدالت سے آرٹیکل  248 کے تحت استثنیٰ مانگ لیا

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ وزیر اعظم نے آرٹیکل 66 کے بجائے 248 کے تحت استثنیٰ مانگا ہے، آرٹیکل 19کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔

جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آپ کا کیس آرٹیکل 19 کے زمرے میں نہیں آتا،اپنے دلائل کو اپنے کیس تک  محدود رکھیں، آرٹیکل 19اظہار رائے کا حق دیتا ہے، آپ حق نہیں استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ بھارت میں سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہوتی ، بھارت میں کسی کو ہٹانے کیلئے دونوں ایوانوں سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ بھارت میں بحث جاری ہے کہ احتساب کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل بنائی جائے۔

مخدوم علی خان نے دلائل میں وضاحت کی کہ  وزیر اعظم نے آرٹیکل 248کے تحت استثنیٰ نہیں مانگا ہے، آرٹیکل 248کے تحت وزیر اعظم آفس کو استثنیٰ ہے، انکی ذات کو نہیں، ذوالفقار علی بھٹو بھی  چوہدری ظہور الہٰی کیس میں استثنیٰ مانگ چکے ہیں۔

وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ  دنیا بھر کی پارلیمان میں ارکان کے آپس میں جھگڑے ہوتے ہیں، کیا ان جھگڑوں کو بھی عدالت میں لایا جا سکتا ہے، ایسے حوالے ہیں جس کے تحت عدالت پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لے سکتی ہے۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تقریر کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا، تقریر کو بطور شہادت پیش نہ کرنے کے عدالتی فیصلوں کے حوالے موجود ہیں، اگر وزیر اعظم پارلیمنٹ سے باہر تقریر کریں تو 248 کا استثنیٰ مانگیں گے، دونوں تقاریر پر تضاد ہے، اگر اسمبلی تقریر پرآرٹیکل 66 کا اطلاق ہوگا تو تضاد ختم ہوجائے گا۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ قانون کی تشریح کرتے ہیں تو اراکین پارلیمنٹ کی تقاریر  رکھی جاتی ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ پارلیمانی  تقریر کا بطور شواہد جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

سماعت کے دوران وزیراعظم کے وکیل نے وزیراعظم کی تقریر کا اقتباس پڑھ کر سنایا، اقتباس میں بچوں کے بیرون ملک  کاروبار کی تفصیل بتائی گئی، تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جاسکے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر یا بچوں کے بیان پر تضاد پر بھی وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا، وزیر اعظم کی نااہلی کے لئے ان کے صادق  اور امین  ہونے کا تعین ہونا چاہیے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے اور عدالت اس کی تشریح کرتی ہے، اگر تشریح کی غرض سے تقریر کا جائزہ لیا جائے تو وہ خلاف ورزی نہیں ہوگی۔
جسٹس عظمت نے کہا کہ کیا آرٹیکل 66 صرف پارلیمنٹ میں تقریر پر استثنیٰ دینے سے متعلق ہے ، صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ قوم سے کئے گئے خطاب کا بھی سوال ہے۔

جسٹس کھوسہ نے وکیل سے سوال کیا کہ مخدوم علی خان صاحب کیا بچے سچ بول رہے ہیں یا والد؟ جس پر وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پارلیمانی تقاریر کو استثنیٰ حاصل ہے، کئی مواقع پر عدالت نے قانون کی تشریح کے لئے بھی تقاریر کا جائزہ نہیں لیا، عدالت کے سامنے وزیر اعظم  نہیں  رکن اسمبلی  کو نااہل ہونے کا سوال ہے، اس مقصد کے لئے عدالت کو قانون کا سہارا لینا ہوگا۔

جسٹس عظمت نے مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 66 کا استحقاق انفرادی نہیں اجتماعی ہے، بار بار یہ کیوں کہہ رہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے روبرو استحقاق کا سوال نہیں ہے ، عدالت ایک معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کوئی غلط بیانی نہیں کی۔

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ، وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔

سماعت سے قبل وکلا کے نہ ہونے کی وجہ سے سماعت تاخیر سے شروع ہوئی، جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ مخدوم علی خان کیا ماجرہ ہے،وکلا آج کیوں پیش نہیں ہوئے۔ مخدوم علی خان کا کہنا ہے کہ جناب وکلا نے ہمیں روکا اور اٹارنی جنرل آفس لے گئے، اٹارنی جنرل نے بتایا ڈی جی اور سیکریٹری ہاؤسنگ کوبلایا ہے تاکہ مسئلہ حل ہو۔،

پاناماکیس ، مریم نواز نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

دوسری جانب پاناماکیس میں مریم نواز نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا، مریم نواز نے جواب میں گزشتہ 5 سال کے زرعی ، غیر زرعی آمدنی کے ٹیکس کا بھی حوالہ دیا ہے، مریم نواز کا کہنا ہے کہ 1992میں شادی کے بعد والد نوازشریف کی زیر کفالت نہیں، شادی کے بعد اپنے شوہر کیساتھ رہتی ہوں، جلاوطنی کے دوران بھی اپنی شوہر کے ساتھ ہی رہی۔

مریم نواز نے جواب میں کہا ہے کہ شمیم زرعی فارم کے مکان میں  مشترکہ طورپر  اخراجات ادا کئے جاتے ہیں ، 2013  میں مسمات شمیم اختر کے ٹیکس میں میرا حصہ 50لاکھ روپے تھا،   2014کے ٹیکس میں میرا حصہ 60 لاکھ روپے تھا اور اس طرح 2015 کے ٹیکس میں میرا حصہ 60 لاکھ روپے تھا۔

عمران خان!بچو،آپ کا وقت قریب آرہا ہے، دانیال عزیز

مسلم لیگ ن کے رہنما  دانیال عزیز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان 8ماہ بتاتے ہیں ہمارے پاس ثبوت ہیں، عمران خان آج ثبوت عدالت میں کیوں جمع نہیں کراتے، اب وہ پرانی فلمیں نکال کر کیوں نہیں چلائی جاتی ہیں، عمران خان عدالت میں کہتے ہیں ثبوت دینا ہمارا کام نہیں، قلاں بازی خان اس کا نام کسی وجہ سے رکھا گیا ہے،  35پنکچر کا الزام لگایا گیا، پھر معافی مانگ لی گئی۔

دانیال عزیز نے مزید کہا کہ عمران خان مسلسل جھوٹ بولنے کے عادی ہیں، عمران خان کے خلاف انکی جماعت لوگ پٹیشن کررہے ہیں، اتنے جھوٹ بولے  کہ عمران خان کوغیرمشروط معافی مانگنا پڑی، آراو کے معاملے پر عمران خان نے سپریم کورٹ سے معافی مانگی، افضل خان کے معاملے پراسلام آباد کی عدالت میں معافی مانگی گئی، عمران خان سینہ تان کرکہتے تھے اب بھاگنا نہیں تلاشی لینی ہے، جہانگیرترین نے جعلسازی سے منافع حاصل کیا، عمران خان!بچو،آپ کا وقت قریب آرہا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ وکیل نے بتایا وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کوئی جھوٹ نہیں بولا، نئی جماعت تھی لوگوں کو ان کاپتہ نہیں تھا،  عمران خان اور انکی جماعت کا چہرہ عوام کے سامنے آرہا ہے، کے پی کے میں اینٹی کرپشن جیسے ادارے کو تباہ کردیا گیا،  لاہورہائیکورٹ سے عمران خان کو44مرتبہ نوٹس دیا گیا، پارٹی فنڈز کیس میں بھی عمران خان کوکئی بار نوٹس ہوا، جگہ جگہ معافیاں مانگنا عمران خان کا وطیرہ بن گیا ہے ہم پر حکم امتناع کے پیچھے چھپنے کاالزام لگانیوالے خود چھپ رہے ہیں۔

دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان ہمت ہے تو سامنے آکر جواب دو،  عمران خان کی عمر نکل رہی ہے، انوکھا لاڈلا کھیلنے کو چاند مانگ رہا ہے، عمران خان اس طرح وزیراعظم نہیں بن سکتے،کارکردگی دکھانا ہوگی، عمران خان کے خلاف بغاوت ہورہی ہے، یہ اپنے ہی کونسلر نکال رہا ہے، عمران خان آنکھیں کھولو، سوچو آپ کیا کررہے ہو۔

انھوں نے کہا کہ امید ہےعمران خان سپریم کورٹ میں بھی جلدمعافی مانگ لیں گے۔

وزیراعظم کے وکیل نے تسلیم کرلیا پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا گیا، فواد چوہدری

پی ٹی آئی کے رہنما کا سماعت کے وقفے کے دوران میڈیا سے کفتگو میں کہنا تھا کہ  وزیراعظم کے وکیل کی تمام کارروائی استثنیٰ پررہی ہے، استثنیٰ تب مانگا جاتا ہے جب آپ جھوٹے ہوتے ہیں، وزیراعظم کے وکیل نے تسلیم کرلیا پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا گیا، مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔

فوادچوہدری نے مزید کہا کہ ہماری حسرت ہے مریم نوازکا سچ پر مبنی کوئی بیان آجائے، اللہ شریف خاندان کو سچ بولنے کی توفیق عطا کرے، مخدوم علی خان مہربانی  فرما کر اب آگے چلیں۔

وکلانےتحریک انصاف کےشفقت محمود کو گیٹ پرروک لیا

وکلانےتحریک انصاف کےشفقت محمود کو گیٹ پرروک لیا جس کے بعد وکلا اور شفقت محمود کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، وکلا کا کہنا ہے کہ ہم کسی سیاسی رہنما اور حکومتی ٹیم کو نہیں جانے دیں گے۔

شفقت محمود کا کہنا ہے کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے

آج کل نیند کی گولیاں نہیں لینی پڑ رہیں، پاناما کیس کی سماعت کے بعد نیند اچھی آرہی، عمران خان

عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار سے وعدہ کیاگیا،اس لئے ان کیساتھ ہوں، ہمارا فریضہ ہے کہ ہم وکلا کے ساتھ کھڑے ہوں، آج کل سونے کے لئے نیند کی گولیاں نہیں لینی پڑ رہیں، پاناما کیس کی سماعت کے بعد نیند اچھی آرہی ہے۔

نواز شریف نے جب سچ بولاوہ ان کی سیاست کا آخری دن ہوگا، شیخ رشید

شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ بارکےوکلاکے ساتھ دھرنادینےکیلئےتیارہوں، چوروں کی حکومت ہے،عوامی مسلم لیگ وکلا کے ساتھ ہے، کل بھی وکلا کی حمایت  کی تھی،آج بھی کررہےہیں، اگر یہ منی ٹریل بتادیں تو میں اپنا کیس واپس لے لوں گا، منی ٹریل نہیں بتا پائے تو قبرتک پاناما پاناما کرتا رہوں گا۔

شیخ رشید نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں کہا جاتا ہے، تلاشی لے لو،  نواز شریف نے جب سچ بولاوہ ان کی سیاست کا آخری دن ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں