site
stats
اہم ترین

پاناما کیس: جےآئی ٹی کی حسین نواز سے چھ گھنٹے تک تفتیش

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ قانون کا احترام کرتے ہیں اسی لیے چھ گھنٹے تک جے آئی ٹی کی تحقیقات کا سامنا کیا۔

یہ بات حسین نواز نے جوڈیشل اکیڈمی میں چھ گھنٹے تک ہونے والی طویل تحقیقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ان کا کہنا تھا کہ میں نے جے آئی ٹی کا انتظار کیا اور ان کے پوچھے گئے ہر سوال کا جواب دیا اورآئندہ بھی طلب کیا گیا تو ضرورحاضرہوں گا۔

حسین نواز نے کہا کہ قانون کی پاسداری کے لیے تمام سوالوں کے جوابات دے رہے ہیں کیوں کہ ہم قانون پسند لوگ ہیں اور اگراحساس ہوا کہ جے آئی ٹی کے کسی رکن کا رویہ درست نہیں ہوا توعدالت سے رجوع کروں گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان کے بیٹے حسین نواز پاناما کیس میں قائم کی گئی جے آئی ٹی میں پیشی کے لیے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تھے اس دوران جوڈیشل اکیڈمی کے باہر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

قبل ازیں جے آئی ٹی کی جانب سے حسین نواز کو جاری کیے جانے والے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ وہ آج صبح 11 بجے جے آئی ٹی کے دفتر، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی سروس روڈ ساؤتھ، سیکٹر 8/4، اسلام آباد میں رپورٹ کریں۔

نوٹس میں حسین نواز سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ہمراہ تمام متعقلہ ریکارڈ، دستاویز، بیانات قلبند کرانے کے لیےلے کر آئیں جیسا کہ انہیں 25 مئی کو جاری ہونے والے نوٹس میں بھی کہا گیا تھا۔

جے آئی ٹی کی جانب سے جاری نوٹس میں حسین نواز کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے نوٹس کی پاسداری نہ کی تو متعلقہ قوانین کے مطابق تعزیری کارروائی کی جائے گی۔


مکمل دستاویزات کے ساتھ کل حاضرہوں، جے آئی ٹی کا حسین نواز کو سمن


حسین نواز کو جاری ہونے والے نوٹس میں جے آئی ٹی نے یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ حسین نواز کو پہلے 25 مئی کو طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد انہیں ایک اور نوٹس جاری کیا اور 28 مئی کو طلب کیا گیا تھا۔

یاد رہےکہ جےآئی ٹی کی جانب سے جاری سمن کے متن میں حسین نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا اس لیے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے آپ کو دوبارہ طلب کیا جارہا ہے کیوں کہ آپ پہلی پیشی میں بغیر ریکارڈ کے آئے اورکسی سوال کا جواب نہیں دیا۔


سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی ممبران پرحسین نواز کےاعتراضات مسترد کردیئے


واضح رہے کہ حسین نواز نے جے آئی ٹی میں شامل دو ارکان پراعتراض بھی اٹھایا تھا اوراس سلسلے میں سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی تاہم سپریم کورٹ نے حسین نواز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top