The news is by your side.

Advertisement

پانامہ کیس ، جے آئی ٹی کی جولائی 2018 سے پہلے بیرون ملک معلومات تک رسائی ممکن نہیں

اسلام آباد : جے آئی ٹی بننے سے پہلے ہی وزیراعظم اور ان کے بچوں کی تلاشی میں بڑی رکاوٹ سامنے آگئی،  جے آئی ٹی کی جولائی دوہزاراٹھارہ سے پہلےبیرون ملک معلومات تک رسائی ممکن نہیں۔

پانامہ کیس میں وزیراعظم سے تفتیش کے لیے بننے والی جے آئی ٹی دوسرے ملکوں سے معلومات حاصل کرنے سے قاصر ہوگی،  ڈان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ٹیکس اور مالی معاملات کی معلومات کے تبادلے کی تنظیم او ای سی ڈی کا حصہ تو ہے لیکن معلومات ملنے کا سلسلہ جولائی 2018سےشروع ہوگا، اس سے پہلے رکن ملک معلومات دینے سےانکار کرسکتے ہیں۔

پاکستان او ای سی ڈی کا رکن بہت تاخیر سے اپریل دوہزار سات میں بنا تھا، وہ او ای سی ڈی کا رکن بننے والا آخری ملک تھا،  اس تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ٹیکس اور مالی معاملات کی معلومات شیئر کرنا ہے، اس تنظیم کا حصہ بننے کے بعد آئندہ سال سے پاکستان کو اسے اثاثوں کی تفصیلات خود بہ خود ملنا شروع ہوجائیں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک متعلقہ افسر نے اس مسئلے پر کہا کہ ضرورت محسوس کی گئی تو جے آئی ٹی بیرون ملک میں موجود متبادل ذرائع سے کیس کی تحقیقات کرے گی۔ اس وقت تک وزیراعظم اور ان کے بچوں کی جانب سے فراہم معلومات پر ہی انحصار کیا جائے گا۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس فیصلہ: رقم قطر کیسے گئی‘ جے آئی ٹی بنانے کا حکم


یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی ہر 15روز بعد رپورٹ پیش کرے، وزیراعظم ،حسن اور حسین جےآئی ٹی میں پیش ہونگے اور جے آئی ٹی 60روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پرہوگا، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی، نیب کا نمائندہ، حکم سیکیورٹی ایکس چینج، ایف آئی اے کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔

سپریم کورٹ نے قطری خط کو مسترد کردیا اور حکم دیا کہ لندن فلیٹس کس کی ملکیت ، منی ٹریل کا پتہ چلایا جائے جبکہ دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا نوٹ لکھا تھا۔

واضح رہے کہ جو کمپنیاں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کی ملکیت میں ہیں وہ بیشتر برطانوی ورجن جزائر میں قائم ہیں، ان 9 مقامات سے آف شور کمپنیوں کی معلومات کیلئے ایف بی آر کو وزارت خارجہ کے ذریعے رسائی حاصل کرنا ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں