پاناما کیس، وزیر اعظم سے تفتیش کیلئے جے آئی ٹی آج تشکیل پانے کا امکان -
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس، وزیر اعظم سے تفتیش کیلئے جے آئی ٹی آج تشکیل پانے کا امکان

اسلام آباد : پاناما کیس میں وزیراعظم سے تفتیش کیلئے جے آئی ٹی آج تشکیل پانے کا امکان ہے، بینچ رکن جسٹس اعجاز افضل بھی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں سے ساٹھ روز میں تفتیش کیلئے جےآئی ٹی کی آج تشکیل کا امکان ہے،  ذرائع کے مطابق کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے رکن جسٹس اعجاز افضل ترکی سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لئے نام پہلے ہی سپریم کورٹ کو موصول ہوچکے ہیں۔

عدالتی حکم کے مطابق آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے ، نیب، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی نے سات دن کی مقررہ مدت میں اپنے اپنے افسران کے نام رجسٹرار آفس کو جمع کرا دئیے تھے۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس ، جے آئی ٹی کے لئے تمام 6 اداروں نے نام سپریم کورٹ بھجوا دیئے


نیب نے جو تین نام بھجوائے، ان میں ڈی جی حسنین احمد، ڈائریکٹرنعمان اسلم اور ایڈیشنل ڈائریکٹر رضوان خان ہیں شامل ہیں  جبکہ ایس ای سی پی کی جانب سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے لئے مظفر مرزا،عثمان حیات اور علی عظیم کے نام تجویز کئے گئے ہیں۔

ایف آئی اے نے احمد لطیف، ڈاکٹر شفیق اور واجد ضیا کے نام دئیے تھے، ان میں احمد لطیف،ڈاکٹر شفیق چھٹی پر چلے گئے، اسی طرح اسٹیٹ بینک نے بھی نام ارسال کر دئیے ہیں۔

اب پاناماکیس کی سماعت کرنے والا بینچ ہی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لئے نام فائنل کرے گا، جبکہ چیف جسٹس جے آئی ٹی کی نگرانی کیلئے خصوصی بینچ تشکیل دیں گے۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس فیصلہ: رقم قطر کیسے گئی‘ جے آئی ٹی بنانے کا حکم


واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے چھ اداروں کے ارکان کو شامل کرنے کی ہدایت کی تھی اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لئے سات دن میں نام دینے کا حکم دیا تھا۔

وزیراعظم اور ان کے بیٹے حسن اورحسین  نوازتحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے اور جے آئی ٹی60 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پرہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں