site
stats
پاکستان

پاناماکیس: جے آئی ٹی کا وزیراعظم کو طلب کرنے پر غور، قطری شہزادے کو بلانے کا فیصلہ

اسلام آباد : پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو طلب کرنے کیلئے غور کر رہی ہے جبکہ قطری شہزادہ جاثم کو بلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے گیارہویں بیٹھک میں وزیراعظم کو ضابطہ فوجداری کے تحت بلانے کیلئے بھی غور شروع کردیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کو سمن کیسےجاری کریں؟ طلبی نوٹس کی عبارت کیا ہو؟

جی آئی ٹی نے شہزادہ حمادبن جاثم کو پاکستان بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

واجد ضیاء کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ کے حکم پر پہلے پندرہ روز کی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، رپورٹ آج شام جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔

پہلی رپورٹ کے مطابق پاناما لیکس پر صحافی عمرچیمہ نے بیان ریکارڈ کرادیا ہے، وزیراعظم کے گوشواروں کی تفصیلات کا جائزہ بھی لیا گیا جبکہ نیب سےحاصل حدیبیہ پیپرز ملز اور اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔


مزید پڑھیں : پاناماکیس، جے آئی ٹی کا دائرہ اختیار وسیع، حکومت مشکل میں؟


جے آئی ٹی کو وزیراعظم کی پانامہ لیکس کے حوالے سے تقاریر اور بچوں کے بیانات کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں، اجلاس نے حدیبیہ پیپر مل معاملے کی تحقیقات کرنیوالے ایف آئی اے اور نیب حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

سپریم کورٹ کا عملدر آمد بینچ پیر بائیس مئی کو رپورٹ پر سماعت کرےگا، جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی پیشرفت کا جائزہ لے گا۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی مزید تحقیقات کےلیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی، اسٹیٹ بینک، نیب اور ایس ای سی پی کے افسران جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے واجد ضیاء کو دی گئی تھی، ے آئی ٹی ہر 15 روز بعد رپورٹ بینچ کو پیش کرنے اور 60 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top