site
stats
پاکستان

پاناماکیس، جے آئی ٹی کا دائرہ اختیار وسیع، حکومت مشکل میں؟

اسلام آباد : پاناماکیس کی جے آئی ٹی میں تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے تفتیشی حدیبیہ پیپرز ملز سے متعلق جے آئی ٹی کےسابق نیب افسران سے رابطے کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے دائرہ اختیار کو وسیع کردیا گیا ہے جس سے ٹیم کو یہ حق بھی تفویض ہو گئے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق کسی بھی کیس کی جانچ پڑتال کرسکیں۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے حدیبیہ پیپرز ملز کی تحقیقات کرنے والے سابق نیب افسران سے رابطے کا آغاز کردیا ہے اور اسحاق ڈار کے بیان حلفی اور شواہد پر سابقہ افسران کی معاونت لی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر سابق نیب افسروں کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں جس سے پاناما کیس میں تحقیقات میں آسانی ملے گی اور نئے انکشافات کی بھی توقع ہے۔

خیال رہے 1999 میں جنرل مشرف کے دور حکومت میں حدیبیہ ملز کیس میں وزیراعظم نواز شریف کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے اور اس حوالے سے اسحاق ڈار کا بیان حلفی بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاناما کیس میں اس نئی پیشرفت کے بعد اس مقدمے کی تحقیقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور حکومت اس مشکل سے خود کو نکالنے میں کس حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top