site
stats
اہم ترین

پاناما کیس ، صدرنیشنل بینک کا جے آئی ٹی کیخلاف سپریم کورٹ کو خط

اسلام آباد : صدر نیشنل بینک سعید احمد نے بھی پاناما جے آئی ٹی ممبران پر مرضی کا بیان لینے کیلئے دباؤ ڈالنے اور دھمکی آمیز تحکمانہ لہجہ اختیار رکھنے کاالزام عائد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے پاناما جے آئی ٹی کے خلاف سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا، خط میں جے آئی ٹی ممبران کے رویے کی شکایت کی گئی ہے۔

خط کے متن میں کہا گیا کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی ارکان نے پانچ گھنٹے تک انتظار کروایا گیا اور کچھ ممبران کا رویہ دھمکی آمیز ہے۔ ان ممبران کا یہ رویہ سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کرتا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ جے آئی ٹی ممبران نے مرضی کا بیان لینے کیلئے دباؤ ڈالا ، جس کا سپریم کورٹ نوٹس لے۔

سعید احمد کا کہنا ہے کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ بطور گواہ بلایا جا رہا ہے، میرے ساتھ سلوک سے لگا جیسے میں سنگین جرم میں ملوث ہوں، 12 گھنٹے تفتیش کی گئی عام دنوں کی بات اور ہے رمضان میں یہ ظلم کے مترادف ہے۔

پاناما کیس کی تفتیش کیلئے سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے ایف آئی اے کے واجد ضیاء کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ جے آئی ٹی 2 ماہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما فیصلے میں اٹھائے گئے پندرہ سوالوں کے جواب تلاش کریں گے۔

واضح رہے کہ سپریم كورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کو سناتے ہوئے معاملے كی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور اس ٹیم کی تشکیل کے لیے 6 اداروں سے نام طلب کیے تھے اور قرار دیا تھا کہ عدالت ناموں کا جائزہ لے کر خود جے آئی ٹی تشكیل دے گی جو 15 روز بعد اپنی عبوری رپورٹ عدالت میں پیش كرے گی جب كہ 60 روز میں تحقیقات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے جمع کرائے گی۔


مزید پڑھیں : تصویر کیوں لیک ہوئی؟ حسین نواز سپریم کورٹ پہنچ گئے


یاد رہے اس سے قبل حسین نواز نے جے آئی ٹی پیشی کی تصویر لیک ہونے کی ذمہ داری  سربراہ جےآئی ٹی اور ٹیم پر عائد کی تھی اورسپریم کورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔

سین نواز کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے درخواست جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ تصویر کا اجراء کر کے میرے موکل کی تضحیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وضاحت کے لیے جے آئی ٹی سے جواب طلب کیا جائے کیوں کہ تصویر لیک ہونے کی ذمہ دار جے آئی ٹی ہی ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top