پاناما کیس، حسن اور حسین نواز کے وکیل نے آج دلائل دینے سے معذرت کرلی -
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس، حسن اور حسین نواز کے وکیل نے آج دلائل دینے سے معذرت کرلی

اسلام آباد : پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت کل ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی ، وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نےدلائل مکمل جبکہ حسن اور حسین نواز کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دلائل دینے سے معذرت کرلی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں3 رکنی بینچ پاناما عملدرآمد کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد تیسری سماعت کررہا ہے، وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ جے آئی ٹی کے اعتراضات پر دلائل دے رہے ہیں۔

خواجہ حارث کا اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم نے گوشواروں میں آمدن اوراثاثوں کی تفصیلات دیں، وزیراعظم سے کسی اثاثے کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا، جے آئی ٹی میں پیشی تک کوئی اور اثاثہ تھا ہی نہیں، جے آئی ٹی کے پاس کچھ ہوتا تو سوال ضرور کرتی، رشتے داروں نے جائیداد چھپائی نہ وزیراعظم کی بے نامی جائیداد ہے.

دوران سماعت خواجہ حارث نے وزیراعظم کا جےآئی ٹی کو دیا گیا بیان پڑھ کر سنایا، دلائل کے دوران خواجہ حارث نے نیب آرڈیننس5اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی اثاثے سے فائدہ اٹھانے والا کسی صورت ملزم نہیں ہوسکتا، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ قانون میں اثاثوں اور آمدن کے ذرائع کا تذکرہ ہے، قانون میں اسے ملزم بنانے کا ذکر ہے جس کے قبضے میں اثاثے ہوں۔

 نوازشریف پر نیب کے سیکشن5اے کا اطلاق نہیں ہوتا، خواجہ حارث 

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اثاثے جس کے زیراستعمال ہوں وہ بھی بے نامی دار ہوسکتا ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جس نیب قانون کا حوالہ دیا وہ کیس سے مطابقت نہیں رکھتا، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف پر نیب کے سیکشن5اے کا اطلاق نہیں ہوتا، کسی کے گھر میں جاکر اس کے گھر سے متعلق نہیں پوچھا جاسکتا۔

سماعت میں جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آمدنی ایک کروڑاورجائیداد 5کروڑکی بنائی ہو تو کیا کہیں گے، جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قبضے والی جائیداد آمدن سے زائد ہو تو اس پر جواب دینا ہوتا ہے، جےآئی ٹی نے وزیر اعظم پر جائیداد بچوں کے نام رکھنے کا الزام لگایا، بچوں کی جائیدادیں بے نامی دار کیسے ہوسکتی ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نے استفسار کیا کہ کسی جائیداد کا قبضہ اور اس کا فائدہ اٹھانا2الگ چیزیں ہیں، وکیل وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی روسے دونوں الگ چیزیں ہیں، احتساب کا قانون جائیداد پر رہنے والے پر لاگو نہیں ہوتا، جس پر جسٹس شیخ عظمت نے سوال کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں دوسرے گھر میں رہنے والا ملزم نہیں بن سکتا؟ زیر استعمال ہونا اور بات ہے، اثاثہ سے فائدہ اٹھانا الگ بات ہے، آپ کے مطابق کسی کے گھر رہنے والے پر نیب قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔

پاناما کیس کی سماعت میں جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ مہینوں سےسن رہےہیں،فلیٹ ملکیت کےعلاوہ سب واضح ہیں، کیس میں سوال 1993سے اثاثے زیر استعمال ہونے کا ہے، قانون میں زیراستعمال پوزیشن کالفظ استعمال ہوا ہے، گزشتہ روزآپ نےحدیبیہ پیپرملز سےمتعلق سوال اٹھایا حدیبیہ پیپرملز کیس کھولنے سے متعلق آپ کا نکتہ نوٹ کرلیا، آپ کے زیادہ تر دلائل بار بار ہوئے تھے، جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ کیس کی نوعیت مختلف ہے، اثاثے وزیراعظم کے نام نہیں، آج عدالت کازیادہ وقت نہیں لوں گا۔

وکیل وزیراعظم نے دلائل میں مزید کہا کہ مزید ایسی دستاویزات نہیں نوازشریف لندن فلیٹ کےمالک ہیں، کوئی اوردستاویزاورگواہ بھی موجود نہیں، ثابت نہیں ہوانوازشریف کےفلیٹس بےنامی دارکے زیر استعمال رہے، جس پر جسٹس اعجازافضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے بےنامی دارکی تعریف لکھتے وقت نیب قانون میں غلطی ہوئی، اس کیس کے تمام پہلوہم پر واضح ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ بے نامی دار کی تعریف ہم سب جانتے ہیں اور مانتے بھی ہیں، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نےکہا فلیٹس خاندان کےہیں نوازشریف کے نہیں، التوفیق کیس کا حوالہ دے کر فلیٹس شریف خاندان کے ظاہر کیے گئے، میاں شریف ہی اپنی زندگی میں تمام معاملات دیکھتے تھے، جےآئی ٹی نے کہا کس کو کتنا شیئر ملا فیصلہ میاں شریف کا تھا، وزیراعظم کے2 بچے حدیبیہ ملز میں حصہ دار تھے۔

لندن فلیٹس کب اور کیسے خریدے گئے، لندن فلیٹس کاپیسہ کہاں سےآیا اور کس نےدیا؟ جسٹس اعجازالاحسن

دوران سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ بنیادی سوال تھا لندن فلیٹس کب اور کیسے خریدے گئے، لندن فلیٹس کاپیسہ کہاں سےآیا اور کس نےدیا؟ پیسہ قطر میں یا سعودی عرب میں تھا، مختلف مؤقف آئے، بنیادی سوال منی ٹریل کاہےوہ کہاں پر ہے؟ بنیادی سوال کا جواب مل جائے تو بات ختم ہوجائے گی، میاں شریف نے فنڈز کہاں سے اور کیسےمنتقل کیے، وزیراعظم کوعلم تھا وہ اسمبلی میں کیا کہہ رہے ہیں؟ وزیراعظم نے خود کہا تھا میں بتاؤں گا کہاں سے فلیٹس لیے۔

وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ وزیراعظم کا کسی ٹرانزیکشن سےکوئی تعلق نہیں، جےآئی ٹی نے لندن فلیٹس سے متعلق غلط نتائج مرتب کیےہیں، کیا وزیراعظم ان اثاثوں کیلئے جواب دہ ہیں جوان کے نہیں؟ وزیراعظم کی تقریر سے انکار نہیں کررہا، وزیراعظم کا ذاتی طور پر ان معاملات سے تعلق نہیں، خاندان کے دوسرے افراد کی طرح جو معلومات تھیں وہ شیئر کیں، جب 1993-95 تک بچے وزیراعظم کے زیر کفالت تھے۔

رپورٹ کے والیم10میں خطرناک دستاویزات موجود ہیں، جسٹس اعجازالاحسن

جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ رپورٹ کے والیم10میں خطرناک دستاویزات موجود ہیں، میرا اشارہ ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق ہے، جس پر خواجی آصف نے کہا کہ وزیراعظم سے جےآئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق پوچھا تھا، وزیراعظم نے کہا تھا تفصیلات کاعلم نہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق نتائج مرتب کیے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے قیاس آرائیوں پر مبنی نتائج مرتب کیے ہیں، والیم4پرکچھ بات کرونگا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ والیم4سے محتاط رہیں،اس میں بھی خطرناک دستاویزہیں، والیم4میں ٹرسٹ ڈیڈ پر بات ہوئی کچھ نتائج اخذ کیے گئے، جس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا سیٹلمنٹ ہوئی تھی، تفصیلات کاعلم نہیں، لندن فلیٹ سے وزیر اعظم کوجوڑنےکی بات قیاس آرائی ہے، لندن فلیٹ سے وزیراعظم کو جوڑنے کے کوئی شواہد دستاویز نہیں، جے آئی ٹی نےفلیٹس وزیراعظم نہیں فریق سے منسلک کیے ہیں، دوسرے فریق سے منسوب کرنا نتیجہ بھی قابل اعتراض ہے۔

جسٹس اعجازافضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نواز شریف کافلیٹس سے تعلق نہیں ایسے کوئی کاغذات ہیں، ایسے کاغذات حسن اور حسین نواز کے پاس ریکارڈ پر ہیں، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وزیر اعظم لندن فلیٹس کےمالک نہیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حسین نواز کہتے ہیں وہ بینیفشل اونر ہیں ایسا ہے تو ثبوت دیں، ہمارے پاس جو کاغذات آئے ، ان میں مریم بینیفشل اونر ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے واضح طور پر کہا فلیٹس شریف خاندان کے ہیں، یہ دیکھنا ہوگا اگر رائے بھی ہے تو کن دستاویزات کی بنیاد پر ہے، حسن حسین نےفلیٹس والد کی طرف سے زیراستعمال رکھے، اگرایسا ہے تو کیا کوئی دستاویزات ہیں؟ کسی اور کی طرف سےفلیٹس رکھے تھے تو وہ کون ہیں؟ آپ سےٹھوس اور واضح جواب مانگ رہے ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ یہ سوال توعدالت نے جےآئی ٹی سے پوچھاتھ، آپ دستاویزات نہیں دینگے تو جےآئی ٹی کہاں سےلائی گی۔

 دستاویزات کے مطابق مریم نوازبینیفشل اونرہیں، جسٹس اعجازالاحسن

جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حسین نواز نے اپنے بینفیشل اونر ہونے کا ثبوت نہیں دیا، دستاویزات کے مطابق مریم نوازبینیفشل اونرہیں، فلیٹس میاں شریف کے تھے تو کچھ تو نوازشریف کو ملا ہوگا، فلیٹس کی ملکیت چھپانے کیلئے متعددآف شورکمپنیاں بنائی گئیں، وزیراعظم نے کیوں کہا تھا تمام دستاویزات موجود ہیں۔

وکیل وزیراعظم نے دلائل میں کہا کہ جو دستاویزات موجود تھے فراہم کردئیےہیں، جن معاملات سے وزیراعظم کا تعلق نہیں وہ کیوں اور کہاں سے دیتے، جس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آف شورکمپنیاں دوسری کمپنیوں سے سروسزلے رہی ہیں، یہ سروسزکس کودی جا رہی ہیں معلوم نہیں، کس کے نام ہیں اور پیسے کس نے دیئے کوئی نہیں بتارہا، ہمیں کوئی کاغذات نہیں دکھا رہا، یہ تو ہے کہ88فیصد منافع وزیراعظم کو دیا گیا، جسٹس اعجازالاحسن نے مزید کہا کہ ایک بلین17کروڑروپے دیئےگئے۔

 حسین نواز نے اپنے والد کو پیسے بھیجے، سب چیزیں موجود ہیں آنکھیں بند نہیں کریں گے، جسٹس شیخ عظمت سعید 

خواجہ حارث نے کہا کہ ہل میٹل حسین نواز کی کمپنی ہے جو کہ خودمختارہے، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حسین نواز نے اپنے والد کو پیسے بھیجے، سب چیزیں موجود ہیں آنکھیں بند نہیں کریں گے، خواجہ حارث نے مزید کہا کہ وزیراعظم قطری سرمایہ کاری سے بھی فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں، وزیراعظم کا لندن فلیٹس سے تعلق ثابت نہیں ہوتا، کوئی دستاویزات یا زبانی بیان نوازشریف کو مالک ظاہرنہیں کرتا۔

جسٹس شیخ عظمت نے سوال کیا وزیراعظم کے علاوہ کوئی مالک ہے یہ دستاویزات موجودنہیں؟ باربارکہہ چکے منروا کیساتھ سروس دینے کا معاہدہ سامنے نہیں آیا، امید ہے آپ ہمارا سوال سمجھ رہے ہیں، بےنامی دارمیں جائیداد خریداری اور فائدہ اٹھانے والےکو دیکھا جاتا ہے، پوچھ پوچھ کرتھک گئے ہیں مالک کون ہے کوئی نہیں بتارہا۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ بتایا تو ہے لیکن کوئی ماننے کو تیارنہیں، جس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ ہل میٹل سے نوازشریف کو88فیصدمنافع ملا، ہل میٹل کا پیسہ کہاں سے آیا، حسن حسین نواز کے وکیل بتائیں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ حسین نوازہل میٹل کے مالک اور خود مختارشہری ہیں تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اسی بات پرآنکھیں بندنہیں کریں گے، خواجہ حارث نے کہا ہل میٹل نوازشریف کی کمپنی نہیں ہے، حسین نوازبے نامی دار ہے نہ وزیراعظم کے زیرکفالت ہیں۔

خواجہ حارث نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، کرپشن کے شواہد کے بغیر نیب کو بھی معاملہ نہیں ارسال کیا جاسکتا، عدالت کو کافی محتاط ہونا ہوگا، جس پر جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ دیکھنا ہے بادی النظر میں وزیراعظم کے خلاف کیس بنتا ہے، شواہدغیرمتنازع ہوں توعدالت ماضی میں بھی فیصلہ دے چکی ہے، دیکھناہوگا فیصلہ خود کرنا ہے یا معاملہ ٹرائل کورٹ بھیجنا کرنا ہے، آپ کو اپنے تمام پتے دکھاناچاہیئیں تھے۔

سپریم کورٹ نے اسحاق ڈارکے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا ہے اور کہا کہ پہلے حسن اور حسین نواز کے وکیل کو سننا چاہتے ہیں۔

  وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین کے وکیل کی دلائل دینے معذرت

وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کر لئے، اس کے بعد سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین کے وکیل کو دلائل دینے کیلئے کہا تو سلمان اکرم راجہ نے آج دلائل دینے سے معذرت کرتے ہوئے کہاکہ میں اپنے دلائل کل دوں گا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا بینی فشل مالک سے متعلق دستاویزات پیش کروں گا، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا ہم ان دستاویزات کودیکھنا اور پڑھناچاہتے ہیں، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا دستاویزات آج شام تک آپ کے چیمبر میں پیش کردوں گا ابھی ریکارڈ دے کرمیڈیا میں خبرنہیں بنانا چاہتا، حسین نواز پر جے آئی ٹی نے سنگین الزامات لگائے سنگین الزامات پر ریکارڈ حاصل کرنا پڑا۔

اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل

اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کوشش کروں گا اپنے دلائل جلد از جلد مکمل کروں، جے آئی ٹی رپورٹ کواسحاق ڈارکے وکیل نے میڈیا فرینڈلی قرار دے دیا، رپورٹ کی خاصیت یہ ہے کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے، تمام صفحات کو جے آئی ٹی نے بطور شواہد پیش کرنے کی کوشش کی، اسحاق ڈار سے متعلق فائنڈنگ حقائق کےخلاف ہیں، اسحاق ڈار کو بلاوجہ کیس میں گھسیٹاگیا، اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کو تمام تفصیلات فراہم کیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جے آئی ٹی نے جو کیا ٹرائل کے مرحلے سے گزرےگا، آپ چاہیں تو جے آئی ٹی رپورٹ کو غلط ثابت کر سکتے ہیں، اگر ٹرائل ہوا تو آپ کو دفاع کا پورا موقع ملےگا، لازمی نہیں جے آئی ٹی کی فائنڈنگ درست ہوں، جے آئی ٹی کوعدالتی اختیارات نہیں دیئے تھے، جے آئی ٹی نے صرف ڈیٹا اکٹھا کیاہے ، اسحاق ڈار کو صفائی کا موقع ملے گا، سپریم کورٹ صفائی کا موقع دینے کا فورم نہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے نہیں عدالت نےحتمی فیصلہ کرنا ہے، جے آئی ٹی نے کچھ نہ کچھ تونتائج دینےہی تھے، ڈیٹا اکٹھا کرکے جے آئی ٹی خاموش تونہیں بیٹھ سکتی، جس پر وکیل اسحاق ڈار طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی نےمینڈیٹ سے تجاوز کیا، جسٹس اعجازافضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کے پاس تیاری کیلئے بہت وقت تھا، امید ہےآپ زیادہ وقت نہیں لیں گے، آپ وہی معلومات دیناچاہتےہیں جتنی ماضی میں دی تھیں۔

وکیل طارق حسن نے کہا کہ میں یہ آبزرویشن واپس نہیں کرنا چاہتا، جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ واپس کربھی دیں تو یہ واپس آپ کے پاس ہی آئیں گی، کیا اسحاق ڈار پر ٹیکس گوشوارے نہ دینے کا الزام تھا، جس پر طارق حسن نے کہا کہ جےآئی ٹی نے فائنڈنگز میں گوشوارے نہ دینے کا الزام لگایا۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی درخواست میں اسحاق ڈار کےخلاف کیا الزام تھا، جس پر طارق حسن نے کہا کہ اسحاق ڈارکے خلاف براہ راست کوئی الزام نہیں تھا، جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اسحاق ڈار پر سنجیدہ نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے، اسحاق ڈار کے وکیل نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار پر جےآئی ٹی نےٹیکس چوری اور اثاثےچھپانےکا الزام لگایا، جے آئی ٹی نے02-2001کے گوشوارے نہ دینے کا الزام لگایا، اسحاق ڈار پر اپنی ٹرسٹ کو خیرات دینے کا بھی الزام لگایا گیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ کیا جےآئی ٹی نے اسحاق ڈارکےخلاف سفارش کی ہے، جسٹس شیخ عظمت نے بھی سوال کیا کہ کیا ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جے آئی ٹی کو فراہم نہیں کیے، ایف بی آر نے جے آئی ٹی کو پہلے ریکارڈ کیوں نہیں دیا، ایف بی آر کے پاس بعد میں ریکارڈ کہاں سےآیا؟ ایف بی آر اسحاق ڈارکی وزارت کے بھی ماتحت ہے، ریکارڈ نیب نے واپس کیا تو ریکوری میمو ضرور بنایا ہوگا، نیب نے اصل ریکاڈ دیا ہے یا فوٹو کاپی دی ہے۔

جسٹس شیخ عظمت نے مزید ریمارکس میں کہا کہ چیئرمین ایف بی آر نے کہا تھا 95فیصد ریکارڈ فراہم کردیا، کیا2 افراد95فیصد شادی شدہ ہوسکتے ہیں؟ کیا نیب نے تسلیم کیا دستاویزات انہوں نے دئیےہیں، کوئی خط وکتابت ہے تو سامنےلائیں، ایف بی آر نے پہلے کہا ریکارڈ نہیں مل رہا، اچانک ریکارڈ ملا اور نیب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا،جسٹس شیخ عظمت

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ گوشوارے ٹریس نہ ہونے کا مطلب گم ہونا یا فائل نہ ہونا ہے، کیا آپ نے ریکارڈ اپنے اعتراضات کے ساتھ جمع کرایا،عدالت کو صرف آڈٹ رپورٹس دی گئی ہیں، جسٹس اعجاز افضل نے مزید کہا کہ عدالت کوکم از کم ریکارڈ فراہم کرنا چاہیے تھا۔

طارق حسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ جےآئی ٹی نے اسحاق ڈار کو کیس میں گھسیٹنے کی کوشش کی، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار کا کنکشن آپ کو میں بتا دیتا ہوں، گلف اسٹیل ملز میں اسحاق ڈاراور بیٹے کا نام درج ہے، ہل میٹل سے بھی اسحاق ڈار کا کنکشن موجود ہے، اسحاق ڈار نے بیان حلفی کے ذریعے معافی مانگی، بیان حلفی کے ذریعے کئی ٹرانزیکشنز کاعلم ہوا، معاملہ ٹرائل کی طرف گیا تو آپ کو پورا موقع ملےگا، ٹرائل میں آپ اپنا مؤقف درست ثابت کرسکتے ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار ملزم تھے اور مبینہ طور پر اعترافی بیان دیا، مبینہ اعترافی بیان پر اسحاق ڈارکو معافی ملی،اسحاق ڈار بعدازاں اعترافی بیان سے منحرف ہوگئے، جب ریفرنس خارج ہوا اسحاق ڈار فریق تھے نہ ملزم، جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ اعترافی بیان دوران حراست لیاگیا تھا، وہ معاملہ ختم ہوچکا دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا، اس نکتے پر میری تیاری بھی نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کو وسیع مینڈیٹ دیا گیا تھا، جے آئی ٹی نیب ایف آئی اے کے ریکارڈ کا جائزہ لے سکتی تھی، جےآئی ٹی کی فائنڈنگز کوئی انہونی بات نہیں تھی، جسٹس اعجازافضل نے مزید کہا کہ اعترافی بیان واپس لینےکےبعدمعافی بھی ختم ہوگئی،دوبارہ ملزم بننے پر کیا اسحاق ڈارکے خلاف کارروائی ہوئی؟

جسٹس شیخ عظمت کا کہنا ہے کہ حدیبیہ ملز کا جےآئی ٹی نے جائزہ تو لینا ہی تھا، قانون کےمطابق حدیبہ ملزکاجائزہ کسی حد تک لیاجاسکتا تھا،جےآئی ٹی کا حکم عبوری تھا،حتمی آپ کوسن کردیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 1993-94 میں 9ملین تھےاور پھراچانک854ملین ہوگئے، جےآئی ٹی کی آنکھیں کھولنے کیلئے یہ ریکارڈ کافی تھا، اسحاق ڈار اور بیٹے کے درمیان بھاری تحائف کا تبادلہ ہوا۔

جسٹس اعجازافضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسحاق ڈار کا ٹرائل ہوا نہ عدالت سے بری ہوئے، اسحاق ڈار حدیبیہ ملز میں شریک ملزم سے وعدہ معاف گواہ بنے، اعترافی بیان سے منحرف ہوکر معافی بھی ختم ہوجاتی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ درخواستگزاروں نےاسحاق ڈار کو نااہل کرنے کا کہا تھا، 3اپریل کے فیصلے کے وقت نااہلی کیلئے ٹھوس مؤقف نہیں تھا، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کو معاملہ بجھوایا تھا، جےآئی ٹی کے مواد پر عدالت اپنا فیصلہ سنائےگی۔

اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے مؤقف اپنایا کہ نیب نے فائل بند کردی ہے، جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا چیئرمین نیب کو اپیل کرنےکی ہدایت نہیں کی تھی، ہل میٹل سےاسحاق ڈار کے بیٹے کو رقم منتقل ہوئی، آپ کو سارا تعلق اور کنکشن واضح طور پر بتا دیا ہے، اسحاق ڈار شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں تو نہیں ملےگا، سپریم کورٹ کوئی شارٹ کٹ نہیں دے سکتی، معاملے پر شواہد پر مبنی سماعت کی ضرورت ہے، سماعت ہوئی تو آپ کو پورا موقع ملے گا۔

وکیل طارق حسن نے کہا کہ اسحاق ڈارکا سارے کیس سے تعلق نہیں، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کیا سارے معاملے پرآنکھیں بند کرلیں۔

اسحاق ڈارکی جانب سے ٹیکس ماہراشفاق تولہ عدالت میں پیش کیا گیا، جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ آپ کوتمام ریکارڈعدالت میں جمع کرانا چاہیے تھا، دلائل کی سمری سے لگتا ہے آپ نےنہیں لکھی، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دلائل کیساتھ متعلقہ دستاویزات بھی ضروری ہے، متعلقہ حکام کے سامنے ریکارڈ پیش کرنا ضروری تھا، جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ کل تمام ریکارڈ جمع کرادیں گے۔

جسٹس شیخ عظمت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ریکارڈرکھنےاوردینےوالے گواہ کو بھی سننا پڑے گا، ممکن ہے آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن ثابت تو کریں، آرٹیکل 10اے کے تحت پورا موقع دینا چاہتےہیں، وکیل طارق حسن نے کہا کہ جےآئی ٹی نے بدنیتی کامظاہرہ کیا، جس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ کوئی نئی بات تو کریں، آپ کے خلاف درخواست مسترد کی تھی اور نہ ہی منظور کی، حقائق اور قانون کو مدنظر رکھ کر چلنا ہے، تفتیشی رپورٹ پر ٹرائل کورٹ میں کبھی اعتراض ہوا ہے؟ آپ کو پھر بھی ہم نے صفائی کا موقع دیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار کے پاس جےآئی ٹی کیلئے بہت معلومات تھیں، اسحاق ڈار نے بیرون ملک کمائی ظاہر کرنے سے انکار کیا، آپ سے ذرائع آمدن پوچھے تو استحقاق مانگ لیا، تحائف کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کرکے کہا گیاوائٹ منی ہے، استحقاق کے پیچھے چھپنےکی کوشش کیوں کی گئی؟ جس پر طارق حسن نے کہا کہ تمام تفصیلات جواب میں فراہم کردی ہیں، جے آئی ٹی میں اپنے مؤکل کے بیان کو چیلنج کر رہا ہوں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں جےآئی ٹی کو بیان آپ نےنہیں دیا،طارق حسن کا کہنا تھا کہ اعجازالاحسن میرےکہنے کا مطلب یہ نہیں تھا۔

جسٹس اعجازافضل کا کہنا تھا کہ ریکارڈنگ موجود ہے، عدالت تصدیق بھی کرسکتی ہے ، اثاثے ظاہر نہیں کرنے تو اسحاق ڈارکے پاس راستہ ہے؟ جےآئی ٹی کی طرح عدالت کے رویے پر بھی اعتراض ہے؟ اسحاق ڈارکےوکیل طارق حسن نے کہا کہ عدالت کے رویے پر کوئی اعتراض نہیں، جےآئی ٹی نے اسحاق ڈار کو مجرم کیوں تصور کیا؟ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اسحاق ڈارکسی عدالت سے بری نہیں ہوئے تھے، یہ تو ہوگیا کوئی اور دلیل ہے تو پیش کریں۔

طارق حسن نے کہا کہ نیب نے اسحاق ڈار کو کلیئر قراردیا تھا، یہ کیس دوبارہ ٹرائل کی طرف جارہا ہے، جو نہیں ہوسکتا، خود کو عدالت میں معذورمحسوس کر رہا ہوں،جسٹس اعجازافضل نے سوال کیا کہ اسحاق ڈار کا ہل میٹل کےقیام میں کوئی کردار نہیں تھا؟ ہل میٹل کیس کا اہم ترین حصہ ہے، اسحاق ڈار نے کچھ نہیں کیا تو آپ پریشان کیوں ہیں؟ نعیم بخاری کہتے ہیں کیس وکیل نہیں موکل ہراتا ہے، طارق حسن آپ دستاویزات جمع کرادیں ہم دیکھ لیں گے، طارق حسن کا کہنا تھا کہ خیرات کے نام پر کوئی ٹیکس چوری نہیں کی۔

سپریم کورٹ میں جےآئی ٹی رپورٹ پرسماعت کل صبح ساڑھے9بجے تک ملتوی کردی۔


مزید پڑھیں :  رپورٹ اورشواہد کےبعد فیصلہ کریں گے معاملہ نیب کوبھیجیں یانااہلی کافیصلہ کریں‘ سپریم کورٹ


گذشتہ روز سماعت میں خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے تھے، وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا جے آئی ٹی کی رپورٹ پر کارروائی ٹرائل کورٹ میں ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ اس کا فیصلہ براہ راست نہیں کرسکتی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ مزید کارروائی ٹرائل کورٹ میں یا سپریم کورٹ میں اس کا فیصلہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعتوں میں تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کی جانب سے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں