site
stats
پاکستان

پاناماکیس ،سپریم کورٹ کا قائم تحقیقاتی ٹیم کے اخراجات کیلئے 2کروڑ روپے جاری کرنےکا حکم

اسلام آباد : پاناماکیس میں وزیر اعظم سےتحقیقات کے لئے قائم ہونے والی جےآئی ٹی پیر سے کام شروع کرے گی، سپریم کورٹ نےتحقیقاتی ٹیم کے اخراجات کے لئے حکومت کو فوری دوکروڑ روپےجاری کرنے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے اثاثوں کی ساٹھ روز میں تحقیقات کیلئے جےآئی ٹی پیر سے اپنا کام شروع کریں گی، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو پاناما کیس کے فیصلے میں اٹھائے گئے تیرہ سوالوں کا جواب تلاش کرنا ہے، جےآئی ٹی کے اخرجات کیلئے فنڈز وفاق فراہم کرے گا۔

سپریم کورٹ نے ابتدائی طور پر دو کروڑ روپے مختص کرنے کا حکم دیا ہے۔

جے آئی ٹی میں اسٹیٹ بینک سے عامر عزیز، ایس ای سی پی سے بلال رسول، نیب سے عرفان نعیم منگی، آئی ایس آئی اور ایم آئی سے بریگیڈیئر لیول کے دو افسران شامل ہیں جبکہ ایف آئی اے کے واجد ضیاء کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔


مزید پڑھیں : پاناما تحقیقات: جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی


جےآئی ٹی کو مقامی اور غیرملکی ماہرین کو بلانے کا اختیارہوگا۔ جےآئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار پر سپریم کورٹ کو آگاہ کیا جائے گا، اس کے علاوہ سیکریٹری داخلہ کوجےآئی ٹی کی سیکیورٹی کیلئےانتظامات کرنےکی ہدایات بھی جاری کردی گئیں ہیں۔

فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو تحقیقاتی ٹیم کا سیکریٹریٹ بنایا گیا ہے۔ جےآئی ٹی پندرہ دن بعد اپنی پہلی پیشرفت رپورٹ بائیس مئی کوسپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

جے آئی ٹی کو تحقیقات مکمل کرنے کے لئے دئیے گئے ساٹھ روز میں ہفتہ اتوارکی تعطیلات شامل نہیں ہوں گی۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس : سپریم کورٹ نے دو جے آئی ٹی ممبران کے نام مسترد کردیے


یاد رہے 3مئی 2017 کوسپریم کورٹ نے پاناماکیس میں جے آئی ٹی کے لیے اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کی جانب سے بھیجے گئے ناموں کو مستردکردیاتھاجبکہ دیگر چار اداروں كی طرف سے بھجوائے گئے نام عدالت عظمی نے منظور کرلیےتھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے چھ اداروں کے ارکان کو شامل کرنے کی ہدایت کی تھی اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے لئے سات دن میں نام دینے کا حکم دیا تھا۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس فیصلہ: رقم قطر کیسے گئی‘ جے آئی ٹی بنانے کا حکم


وزیراعظم اور ان کے بیٹے حسن اورحسین  نوازتحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے اور جے آئی ٹی60 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وزیراعظم کی اہلیت کا فیصلہ جے آئی ٹی رپورٹ پرہوگا، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی،ایم آئی‘ نیب‘ سیکیورٹی ایکس چینج اورایف آئی اے کا نمائندہ شامل ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top