The news is by your side.

Advertisement

پاناماکیس: وزیراعظم کے وکیل بھارتی آئین کےحوالے دینے لگے

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناماکیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی ہوگئی،وزیراعظم نوازشریف کے وکیل کل بھی اپنےدلائل دیں گے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت کے پانچ رکنی لارجربینچ نے کیس کی سماعت کی۔

پاناماکیس کی سماعت کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم کے وکیل سے کہاکہ آپ کو کتنا وقت لگےگا،جس پر انہوں نے کہا کہ تقاریر میں تضاد،زیر کفالت اور دائرہ اختیار پر بات کروں گا۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ کوشش ہوگی آج63،62پردلائل مکمل کروں،جبکہ انہوں نے کہا کہ وکلا نے آج عدالت میں داخلے سےروکا۔وکلاکاکہناہےشام تک مطالبات منظورنہ ہوئےتوکل نہیں آنےدیں گے۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ وعدہ کرتا ہوں بطور وکیل اپنے دلائل نہیں دہراؤں گا۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئےڈاکٹرمبشرحسن کیس کافیصلہ پڑھ کرسنایا،مبشرحسن کیس میں وفاق کو جاری ہدایت پرعمل نہ ہوا۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہاکہ یکم اپریل کوعدالت نےوفاق کوسوئس حکام کوخط لکھنےکاکہا تو26اپریل 2012 کووزیر اعظم کوسزاسنائی گئی۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 4مئی کواسپیکر نےرولنگ دی تومعاملہ سپریم کورٹ آیا،جبکہ 19جون کوعدالت نےیوسف رضاگیلانی کوہٹانے کاحکم دیا۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہاکہ نااہلی کےتمام مقدمات میں فیصلہ شواہدریکارڈکرنےکےبعدہوا۔جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہا کہ دہری شہریت کافیصلہ سپریم کورٹ نےکیاتھا،آپ اس نکتےکوکیوں بھول جاتےہیں؟۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کیس میں 7رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا،لارجر بینچ کے فیصلے کی روشنی میں یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا فیصلہ آیا۔

وزیراعظم کے وکیل کے دلائل کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل ڈائس پر آگئے،انہوں نے کہاکہ جن فیصلوں کاحوالا دیا جارہا ہے ان کی نقول فراہم کی جائیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ آپ اپنا کیس پیش نہیں کررہے تو نقول کاکیاکریں گے،جس پر جماعت اسلامی کے وکیل توصیف آصف نے کہا کہ ایک2 روز میں درخواست جمع کر ادیں گے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ دہری شہریت کے حوالے سے آرٹیکل تریسٹھ ون سی واضح ہے،جس پر جسٹس عظمت نے کہا کہ دہری شہریت کے فیصلے میں یہ بھی واضح ہےعدالت دائرہ اختیاررکھتی ہے۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ عدالت نے صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے ریکارڈ سے کیس ثابت ہوتا ہے یا نہیں،جس کےجواب میں وزیراعظم کے وکیل نے کہاکہ عدالت نے ہر کیس کا حقائق کے مطابق جائزہ لیا تھا۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ دہری شہریت کے حامل افراد کو صفائی کا موقع بھی دیا گیا،دہری شہریت کے فیصلےکی بنیاد پر تقاریر پر نااہلی نہیں ہوسکتی۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ عدالت نے اپنے اطمینان کے بعد کیسوں کی سماعت کی،جن اراکین نے دہری شہریت سے انکار کیا ان کے مقدمات بھی سنے گئے۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ میرے دلائل کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سپریم کورٹ کیس نہیں سن سکتی،انہوں نے کہا کہ 62/1ایف، 63/1اطلاق کے طریقے کار مختلف ہیں۔

جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے کہا کہ62/1 کے حوالے سے کوئی طے شدہ پیٹرن نہیں،ممکن ہے اس حوالے سے آئندہ بھی متعدد فیصلے آئیں۔انہوں نے کہا کہ 62،63 کا اطلاق کیس کے حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ رینٹل پاور کیس میں عدالت نے راجہ پرویز اشرف کے خلاف آبزرویشن دی،جس کے باوجودراجہ پرویز اشرف کے خلاف نا اہلی کا فیصلہ نہیں دیا۔

سپریم کورٹ کےباہرتحریک انصاف کے رہنماؤں کی میڈیا سے گفتگو

تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا سپریم کورٹ کےباہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہناتھاکہ سپریم کورٹ بار کےساتھ دھوکا کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کا کہناتھاکہ پاناما کیس کاتاریخی فیصلہ اسی ہفتے آئے گا۔بعدازاں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہناتھاکہ مخدوم علی خان کہہ رہے ہیں عدالت سچ تک نہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ مخدوم علی خان جوکتابیں پڑھ رہے ہیں ان کاکیس سے تعلق نہیں،جبکہ مخدوم علی خان کے دلائل کے دوران لوگ سو رہےتھے۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہناتھاکہ سپریم کورٹ کا وقت قیمتی ہے اس کوضائع نہ کیاجائے،انہوں نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان ٹیکنیکل باتوں کے پیچھے نہیں چھپیں گے۔

فواد چوہدری کا کہناتھاکہ نوازشریف کے بچوں کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے،وزیراعظم کےوکیل کو چار سوالات کاجواب ضروردیناہوگا۔

سپریم کورٹ کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی میڈیاسےگفتگو

سپریم کورٹ کےباہر میڈیا سےگفتگوکرتےہوئےمسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز کاکہناتھاکہ عمران خان کے پیش کئے گئے ثبوت غیرمعیاری ہیں،وزیراعظم کے وکیل نے کیس کوقابل سماعت ہونے کوچیلنج نہیں کیا۔

دانیال عزیز کا کہناتھاکہ پی ٹی آئی والے مانتے ہیں نوازشریف کاپاناما میں نام نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عوام کو ایک شکل دکھاتے ہیں،عدالت میں بھیس بدل کرآتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس کسی قسم کاکوئی ثبوت نہیں ہے،یہ لوگ حیلے بہانوں سے عدالت کی کارروائی سے فرار ہورہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز کا کہناتھاکہ وزیراعظم نے پہلے دن کہاتھا وہ خودکوعدالت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید کا کہناتھاکہ عمران خان اپنی جائیدادیں چھپانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ خان صاحب یہ چھپنے والا نہیں سب کچھ عدالت میں آگیا ہے۔

پاناما لیکس سےمتعلق درخواست پروقفے کےبعد دوبارہ سماعت پرعدالت نےکا کہاکہ آپ کہنا چارہے ہیں 184/3کے تحت عدالت تصدیق شدہ حقائق سن سکتی۔

مخدوم علی خان نے دلائل دیتےہوئے کہاکہ تقریر، ٹیکس،مریم نوازکا زیر کفالت ہونا تین مختلف معاملات ہیں،ہر پہلو پر الگ الگ دلائل دوں گا۔

وزیراعظم کےوکیل نے دلائل دیتےہوئے کہا کہ جہاں ریکارڈ متنازع ہو وہاں سپریم کورٹ براہ راست کارروائی نہیں کرسکتی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہا کہ سپریم کورٹ ایک عدالت ہے اور کئی کیسز میں ڈکلیریشن دے چکی ہے۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ عدلیہ مخالف تقاریر پر رفیق تارڑ کے کاغذات مسترد ہوئے تھے،عدالت نےقرار دیا اخباری تراشوں پر کسی کو ڈی سیٹ نہیں کیا جاسکتا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ صدر رفیق تارڑ نے کیا اپنی تقریر کی تردید کی تھی،کیا آپ وزیر اعظم کی تقریر کی تردید کر رہے ہیں؟۔

جسٹس اعجاز الاحسن استفسار کیا کہ آپ انٹرویوز سے انکار کر رہے ہیں جو تقریر کے مطابق نہیں؟جس پرمخدوم علی خان آرٹیکل 66 کے تحت اسمبلی کارروائی کو عدالت میں نہیں لایا جاسکتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر اعظم نے خود ہی استثنیٰ لینے سے انکار کیا تھا،جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ کیا اس استثنیٰ کو ختم کیا جاسکتا ہے؟۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ یہ استثنیٰ پارلیمنٹ کو حاصل ہے وہی اس کو ختم کر سکتی ہے،جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ استثنیٰ اور استحقاق میں کچھ تو فرق ہوتا ہے؟۔مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کو تعین کرنا ہوگا دو افراد میں کون سچا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ زیر سماعت مقدمہ مختلف نوعیت کاہے،انہوں نےکہا کہ تقریر کسی موقف کو ثابت کرنے کے لئے کی گئی تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں جھوٹ نہیں بولا دوسری طرف استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔جسٹس گلزار نے کہا کہ آرٹیکل 66 کو شامل کرنے کا مقصد اراکین کو آزادی اظہار رائے کا حق دینا تھا۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آرٹیکل 66 آزادی اظہار رائے کو تسلیم کرتا ہے،آزادی اظہار رائے الگ تقریر عدالتی کارروائی میں شامل کرنا الگ ہے۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ان تقاریر سے صرف معاملے کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے،جس پر وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں صرف ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جاسکتی۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ مجلس شوری میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ وزیر اعظم کی تقریر کی حیثیت صرف اسمبلی کا بیان نہیں،عدالت میں وزیراعظم کی تقریر پر انحصار کیا جارہا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا کہ کوئی غلط بیانی نہیں کی،بعد میں کہہ رہے ہیں اگر غلط بیانی کی بھی ہے تو استثنیٰ حاصل ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اسمبلی میں تقریر کو استثنیٰ حاصل ہے،انہوں نے کہاکہ کیا اس تقریر کو عدالت میں کیس کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے؟۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ عدالت میں معاملہ صرف تقریر پر کارروائی کا نہیں ہے، مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کی تقاریر کا جائزہ آئین کے مطابق ہی لیا جا سکتا ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ بھی آئین کا ہی حصہ ہے،جس پر مخدوم علی خان نے کہاکہ آئین کے مطابق جائزہ لینے کے معاملے پر عدالتی فیصلے موجود ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ کیا اسمبلی میں کی گئی غلط بیانی پر آرٹیکل 62کا اطلاق نہیں ہوتا؟۔جس پر وزیراعظم کےوکیل نے کہا کہ بھارتی عدالتوں کے ایسے فیصلے موجود ہیں کہ اطلاق نہیں ہوتا۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ کیا بھارتی آئین میں بھی آرٹیکل باسٹھ ہے؟ ۔مخدوم علی خان نے کہاکہ بھارتی آئین میں صادق اور امین کے الفاظ موجود ہیں۔

وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ وزیراعظم کے بیان میں نہ کوئی تضاد ہے نہ غلط بیانی،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کوئی جھوٹ نہیں بولا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پاناماکیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی،کل بھی وزیراعظم کے وکیل اپنے دلائل دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں