سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت6دسمبرتک ملتوی -
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت6دسمبرتک ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانامالیکس کیس کی سماعت 6دسمبرتک ملتوی کردی۔

تفصیلات کےمطابق پانامالیکس کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے کی۔سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور مسلم لیگ ن کے وزراء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

عدالت میں پی ٹی آئی کی نمائندگی نعیم بخاری اور بابر اعوان نے کی جبکہ وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ اور ان کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ بھی عدالت میں موجود تھے۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ ریکارڈ سے ثابت کروں گا کہ وزیراعظم نے غلط بیانی کی اورٹیکس چوری کے مرتکب ہوئےہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 13 اپریل 2016 کو قوم سے خطاب کیا اورقوم سے جھوٹ بولا، دوسرے خطاب میں بھی وزیراعظم نے سچ نہیں بتایا۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بیٹے سے پیسے لئے جبکہ وزیراعظم کے صاحبزادے کا این ٹی این نمبرہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کیس میں اعترافی بیان دیاجس پر جسٹس عظمیت سعید شیخ نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ آ چکا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نےاپریل1980میں 33 ملین درہم میں فیکٹری فروخت کرنےکا بتایا لیکن دبئی میں فیکٹری کب بنائی گئی یہ نہیں بتایا۔

نعیم بخاری نے دوران سماعت کہا کہ تمام دستاویزات موجود ہیں،شہباز شریف نے طارق شفیع بن کر دستاویزات پر دستخط کیے۔

عمران خان کےوکیل نے کہا کہ وزیراعظم کے بقول تمام دستاویزات موجود ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ دستاویزات ہر جگہ موجود ہوں گی لیکن عدالت میں موجود نہیں ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ دبئی سے پیسہ کب، کیسے اور کس بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل ہوا اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ قطر سے پیسہ لندن کیسے گیا یہ بھی نہیں بتایا گیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کو 2006 سے پہلے شریف خاندان کی آف شور کمپنیو ں کی ملکیت ثابت کرنا ہوگی،اگر یہ ثابت ہوجائے تو سارا بوجھ شریف خاندان پر ہوگا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ 21 جولائی 1995 کو فلیٹ نمبر 16 اور 16 اے خریدے گئے جب کہ فلیٹ 17 اے 2004 میں خریدا گیا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ فلیٹس کتنے میں خریدے گئے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حماد بن جاسم کی تاریخ پیدائش بھی انٹر نیٹ سے ڈھونڈیں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ الثانی فیملی کے مردوں کے نام ایک جیسے ہیں اس لئے جاسم کی تاریخ پیدائش جاننا مشکل ہے۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں پیش کئے گئے ضمنی جواب اور تقاریر میں تضاد ہے۔

نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کا خط وزیر اعظم کے موقف سے مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب اور دیگر ادارے اپنا کام کرنے میں ناکام رہےہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ نیب وزیر اعظم کو بچانے میں لگارہا،نیب چیئرمین کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران طارق اسد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ میڈیا میں حامد خان سے متعلق بہت باتیں آئی ہیں،تبصروں سے کیس پر اثر پڑے گا،میڈیا کو کیس پر تبصروں سے روکا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان بہت سینیئرقانون دان ہیں،قانون پرکتابیں لکھ چکے ہیں ان سے متعلق میڈیا میں باتوں سے ان کی ساکھ متاثر نہیں ہوتی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے بعد آج بھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے فیصلہ نہ ہوسکا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں