site
stats
اہم ترین

پاناماکیس میں سپریم کورٹ کے3سوال،سماعت کل تک ملتوی

اسلام آباد: پاناماکیس میں سپریم کورٹ نےتین سوال اٹھادیےاور سماعت کل صبح تک کےلیے ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں پاناماکیس سےمتعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے کی۔

عمران خان کی جانب سے نعیم بخاری اور وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سلمان اسلم بٹ پیش ہوئے،اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور پارٹی رہنماؤں سمیت حکومتی وزراء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل اور وزیراعظم نوازشریف کے وکیل کی جانب سے دلائل سننے کے بعدجسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے3 سوالات اٹھائےگئے۔

پہلاسوال وزیراعظم کے بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں؟۔دوسراسوال زیر کفالت ہونے کا معاملہ؟ جبکہ تیسراسوال وزیراعظم کی تقریروں میں سچ بتایا گیا ہے یا نہیں؟۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاناماکیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیرجمالی نے ریماکس دیےکہ نیب،ایف بی آراور ایف آئی اے نے کچھ نہیں کیا،جب ہم نےدیکھا کہ کہیں کوئی کارروائی نہیں ہورہی تو یہ معاملہ اپنے ہاتھ لیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ادارےقومی خزانےپربوجھ بن گئے ہیں،اگر انہیں کوئی کام نہیں کرنا توان کو بند کردیں۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کےدلائل

تحریک انصاف کے وکیل نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کہ وزیر اعظم کی پہلی تقریر میں سعودیہ مل کی فروخت کی تاریخ نہیں دی گئی جبکہ لندن فلیٹس سعودی مل بیچ کر خریدے یا دبئی مل فروخت کرکے بیان میں تضاد ہے۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نےکہاتھا کہ لندن فلیٹ جدہ اور دبئی ملوں کی فروخت سےلیے۔انہوں نے کہاکہ 33 ملین درہم میں دبئی اسٹیل مل فروخت ہوئی اور یہ قیمت وزیر اعظم نے بتائی۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے سماعت کے دوران دلائل دیےکہ حسین نواز کےمطابق لندن فلیٹ قطرسرمایہ کاری کے بدلے حاصل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مسلسل ٹیکس چوری کی ہے جبکہ2014 اور 2105 میں حسین نواز نے اپنےوالد نوازشریف کو 74 کروڑ کے تحفے دیئےجس پر وزیراعظم نے ٹیکس ادا نہیں کیا۔

جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم کے گوشواروں میں کہاں لکھا ہے کہ مریم نواز ان کے زیر کفالت ہیں۔جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ ان کے پاس مریم کے والد کے زیر کفالت ہونے کے واضع ثبوت ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کے د لائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریم نواز زیر کفالت ہیں لیکن ابھی یہ تعین کرنا ہے کہ مریم نواز کس کے زیر کفالت ہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئےکہ زیر کفالت ہونے کا معاملہ اہمیت کا حامل ہے،ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ ملک کے قانون میں زیر کفالت کی کیا تعریف کی گئی ہے۔

حکومت وکیل سلمان اسلم بٹ کے دلائل

دوسری جانب وقفے کے بعد جب کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیئے اور کہا کہ درخواست گزاروں نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔

سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ 1992 میں مریم نواز کی شادی کےبعد وہ وزیراعظم کی زیر کفالت نہیں، اس طرح یہ دلائل کےمریم نواز 2011 اور 2012 میں وزیر اعظم کے زیر کفالت تھیں، درست نہیں ہیں۔

سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت صرف بیگم کلثوم نواز زیر کفالت تھیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اسلم بٹ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پیسہ کہاں سے آیا یہ آپ نے ثابت کرنا ہے۔

سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ مریم نواز کی جائیداد کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیےکوئی اورکالم موجود نہیں تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ اگر کوئی مخصوص کالم نہیں تھا تو نام لکھنےکی کیا ضرورت تھی،اگر نام لکھنا ضروری تھا تو کسی اور کالم میں لکھ دیتے۔

بعدازاں عدالت نے پوچھے گئے تینوں سوالوں کا جواب مانگتے ہوئے کیس کی سماعت کل7 دسمبرتک کے لیے ملتوی کردی،سلمان اسلم بٹ کل اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

یاد رہےکہ اس سےقبل وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں حسین،حسن اور مریم نواز کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیاتھاکہ پاناما کیس انتہائی اہم کیس اور تاثردیا جارہا کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے تاریخیں لی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کے بچوں نےسپریم کورٹ سے استدعا کی ہےکہ پاناماکیس کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top