site
stats
اہم ترین

پاناما کیس: جے آئی ٹی نے نوازشریف کو طلب کرلیا

Nawaz Sharif

اسلام آباد: پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو 15 جون جمعرات کے روز بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے وزیراعظم کو سمن بھیجا گیا جس میں انہیں 15 جون بروز جمعرات کے روز پیش ہونے کا کہا گیا ہے، نوازشریف 15 جون کو منی ٹریل، حدیبیہ پیپر ملز کیس سے متعلق بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

وزیر اطلاعات و نشریات مریم اونگزیب نے جے آئی ٹی سمن ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کے روز وزیر اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے جبکہ ترجمان وزیر اعظم ہاؤس نے بھی سمن ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

ذرائع  کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی آئندہ ہفتے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

نمائندہ اے آر وائی ذوالقرنین حیدر کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے وزیر اعظم کو پہلے ہی دو نوٹس ارسال کیے جاچکے تاہم اب تیسرے نوٹس میں نوازشریف کو جمعرات کے روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام دستاویزات کے ساتھ جے آئی ٹی میں پیش ہوں اور اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کا کہنا ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والے جے آئی ٹی کی جانب سے بھیجا جانے والا نوٹس وزیراعظم کو موصول ہوگیا ہے، ترجمان وزیراعظم ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ وزیراعظم جمعرات کے روز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

جے آئی ٹی وزیراعظم سے حدیبیہ پیپر مل، منی ٹریل اور سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان سے متعلق سوالات کرے گی، خاص طور پر قوم سے خطاب اور قطری خط کے حوالے سے بھی نوازشریف سے سوالات کیے جائیں گے۔

بیورو چیف اسلام آباد صابر شاکر کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے جے آئی ٹی کو واضح احکامات دیے گئے ہیں کہ مقررہ وقت سے ایک دن بھی زیادہ نہیں دیا جائے گا اس لیے حسین ، حسن نواز کے بعد اب وزیر اعظم کو طلب کیا گیا ہے۔

صابر شاکر کا کہنا ہے کہ پاناما کیس کی تحقیقات میں ابھی تین اہم لوگوں سے تفتیش باقی ہے، جن میں نوازشریف، اسحاق ڈار اور مریم نواز شامل ہیں، جے آئی ٹی 22 جون کو سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائے گی اُس سے قبل ان تینوں افراد کو طلب کیا جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top