site
stats
پاکستان

جے آئی ٹی الزامات،حسین نواز اور اداروں نےجواب جمع کرادیا

اسلام آباد : جے آئی ٹی کے الزامات پر وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز، ایف بی آر اور ایس ای سی پی نے جوابات عدالت عظمیٰ،اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو جمع کرادیے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے جےآئی ٹی رپورٹ کو تضادات کا مجموعہ قرار دیدیا، انہوں نے الزامات کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا۔

حسین نوازنے کہا ایک طرف تصویر لیک ہونے کا اعتراف کیا گیا، دوسری طرف تصویر لیک ہونے پر ان کی درخواست کو جےآئی ٹی کے خلاف مہم کا حصہ قرار دیا گیا۔

اپنے جواب میں حسین نواز کا کہنا ہے کہ تصویر لیکج کی ذمہ دار جے آئی ٹی ہے، جے آئی ٹی ممبران تصویر لیکج سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے، قانون جےآئی ٹی کو ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دیتا۔

حسین نوازکا کہنا تھا کہ مجھ پر لگائے گئے الزامات بدنیتی اور جھوٹ پر مبنی ہیں، میں نے توہین آمیز یا سخت زبان استعمال نہیں کی۔

دوسری جانب ایف بی آر نے اپنا جواب ایڈیشنل اٹارنی جنرل کوجمع کرادیا، جس میں جےآئی ٹی کے الزامات مسترد کردیا، ایف بی آرنےواضح کیا کہ جن دستاویزات کا ریکارڈطلب کیا، تین سے پانچ روزمیں فراہم کردیا۔


مزید پڑھیں : پاناما جے آئی ٹی کی سرکاری اداروں پر سنگین الزامات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع


سیکوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی اٹارنی جنرل کے ذریعے دفاع کا فیصلہ کرتے ہوئے جواب اشتر اوصاف کے پاس جمع کرادیا ہے۔

یاد رہے گذشتہ روز پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جی آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نےسرکاری اداروں پر سنگین الزامات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کرادی ، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس،ایس ای سی پی،آئی بی، ایف بی آر ،وزارت قانون اور نیب پاناما تحقیقات میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top