The news is by your side.

Advertisement

مجھے جے آئی ٹی کیخلاف بیان دینے کیلئے دباؤ ڈالا گیا، ماہین فاطمہ

اسلام آباد : ایس ای سی پی کی ڈائریکٹر ماہین فاطمہ نے کہا ہے کہ چوہدری شوگرملزکی فائل کو چیئرمین ایس ای سی پی کی ہدایت پربند کیاگیا، مجھے کہا گیا کہ جے آئی ٹی کیخلاف جارحانہ رویے کی شکایت کرو، یہ بات انہوں نے ایف آئی اے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔

تفصیلات کے مطابق ایس ای سی پی کی ڈائریکٹر ماہین فاطمہ نے ایف آئی اے کو دیئے گئے اپنے بیان میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چیئرمین کے آفس گئی تو عابد صاحب پہلے سے موجود تھے،29مئی کوچیئرمین نے مجھ سے پوچھا جے آئی ٹی میں کیا ہوا۔

یکم جون کو ڈائریکٹر ایچ آر نے پیشی کی رپورٹ مانگی، بتایا گیاچیئرمین کی ہدایت پر رپورٹ مانگی گئی ہے۔ میں نے جے آئی ٹی کے خلاف بات کرنے کی ہدایات نظر انداز کردیں۔

ماہین فاطمہ نے کہا کہ پندرہ جون کو چیئرمین نے مجھ سے تحقیقات بند کرانے کابیان تحریر کرانے کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری شوگرملز کی فائل کو چیئرمین ایس ای سی پی کی ہدایت پربند کیا گیا تھا۔

جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد چیئرمین یس ای سی پی نے دباؤ ڈالا کہ تحقیقاتی ٹیم کے خلاف جارحانہ رویے کی شکایت اور اپنے رونے کا ذکر کرو، اس کے علاوہ مجھے جے آئی ٹی کو دباؤ میں آکر بیان دینے کے اعتراف کی ہدایت بھی کی گئی۔

اس موقع پر عاکف سعید، یاسرمنظور، مسرت جبیں اورمظفر مرزا بھی موجود تھے جو اس بات کے گواہ ہیں، انہوں نے بیان دیا کہ جب میں نے جے آئی ٹی کے خلاف بیان دینے سے انکار کیا تو مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور دبے لفظوں میں گلگت ٹرانسفر کرنے کی دھمکی دی گئی۔

ماہین فاطمہ کے بیان کے بعد ایف آئی اے نے ان کا لیپ ٹاپ اپنی تحویل میں لے لیا ہے، ایف آئی اے نے چوہدری شوگر ملز سے متعلق تحقیقات مکمل کرلیں۔

رپورٹ آج اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایس ای سی پی کے چیئرمین نے ماہین فاطمہ اور دیگرحکام کے بیانات کی تردید کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں