The news is by your side.

Advertisement

پاناما جے آئی ٹی کی سرکاری اداروں پر سنگین الزامات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع

اسلام آباد : پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جی آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نےسرکاری اداروں پر سنگین الزامات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں جمع کرادی ، جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس،ایس ای سی پی،آئی بی، ایف بی آر ،وزارت قانون اور نیب پاناما تحقیقات میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاناما جے آئی ٹی کی سرکاری اداروں کے خلاف چارج شیٹ جمع کرادی ہے،جس میں وزیراعظم ہاؤس پر الزام لگایا گیا ہے کہ کس کو کیا بولنا ہے، جے آئی ٹی کو کتنا بتانا ہے، وزیراعظم ہاؤس پیشی سے قبل گواہوں کو اپنے پاس طلب کرکے سکھارہا ہے۔

پاناما جےآئی ٹی کا کہنا ہے کہ ایس ای سی پی سرکاری ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کررہا ہے، مانگنے کے باوجود مطلوبہ ریکارڈ نہیں دیا جارہا، جے آئی ٹی نے ایس ای سی پی جانب سے دستیاب ریکارڈ پر بھی ٹیمپرنگ کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس ای سی پی سے شریف فیملی کے خلاف تمام انکوائری کا ریکارڈ مانگا۔ لیکن ایس ای سی پی نے شریف خاندان کے خلاف کسی بھی انکوائری سے انکارکیا۔

تحقیقات ٹیم نے انٹیلی جینس بیورو پر جے آئی ٹی ممبران کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے انکشاف کیا کہ آئی بی اہلکار ممبران کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سیاسی وابستگیاں تلاش کرنے میں مصروف ہیں، آئی بی والے ممبران کے گھروں کے باہر بھی نظر آئے ہیں۔

جے آئی ٹی نے نیب پر بھی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی احتساب بیورو کا ادارہ جے آئی ٹی رکن کے خلاف انضباطی کارروائی کررہا ہے جبکہ  وزارت قانون پر نوٹیفیکیشن کی عدم فراہمی اور تاخیر جبکہ ایف بی آر کے خلاف ٹیکس معلومات دستیاب نہ کرنے کی شکایت کی ہے۔

جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ اداروں سے خفیہ خط و کتابت میڈیا کو جان بوجھ کر جاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد تحقیقاتی عمل متنازع بنانا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں