جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کے خطوط کو ایک فرضی داستان قرار دے دیا -
The news is by your side.

Advertisement

جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کے خطوط کو ایک فرضی داستان قرار دے دیا

اسلام آباد : پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی جے آئی ٹی نے قطری خطوط کو ایک فرضی داستان قرار دے دیا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق کاروبار کی تفصیلات بتانے کیلئے شریف خاندان نے قطری شہزاد ے حماد بن جاثم کے دو خطوط سپریم کورٹ میں جمع کروائے، جے آئی ٹی رپورٹ کیمطابق یہ خطوط لندن فیلٹس سے متعلق منی ٹریل میں گم کڑیوں کو ملانے کی بظاہر ایک ناکام کوشش ہے۔

خطوط میں بتایا گیا ہے کہ میاں شریف نے انیس سو اسی میں قطری خاندان کے ریئل اسٹیٹ کاروبار میں سرمایہ کاری کی تھی اور پھر ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کا یہ سرمایہ لندن فیلٹس کی خریداری میں استعمال ہوا لیکن اتنی بڑی سرمایہ کاری کی کوئی دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں ان خطوط کو ایک فرضی داستان اور مفروضہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دیگر دستاویزات کی طرح قطری شہزادے کے ان دو خطوط میں بھی تضاد پایا گیا، رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کا سرمایہ کبھی شریف خاندان کو ملا ہی نہیں تو اس کو انویسٹ کیسے کیا گیا؟ شریف خاندان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے سوالنامے کا چھٹا اور بہت اہم سوال یہ تھا کہ آیا قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن جابرالثانی کا خط حقیقت ہے یا افسانہ ؟جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اس سوال کا جواب 24صفحات پر مشتمل ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دستاویزی ثبوتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ قطری شہزادے کا خط مکمل طور پرایک افسانہ ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران شریف خاندان نے قطری شہزادے کے 2 خط5 نومبر2016ء اور 22 دسمبر2016ء کو جمع کرائے تھے، جس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے قطری شاہی خاندان سے مل کر 1980ء میں گلف اسٹیل ملز خریدی گئی، یہی سرمایہ کاری بعد میں لندن میں جائیداد کی خریداری اوردیگر بیرون ملک کارروبار کیلئے استعمال کی گئی۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں