The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس، جے آئی ٹی کا قطری شہزادے کو دوبارہ سمن جاری کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : پاناماکیس کی جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو دوبارہ سمن جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی جانب سے قطری شہزادے شیخ جاسم کو کو دوبارہ سمن جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، گورنراسٹیٹ بینک کو بھی بلایا جائے گا، جبکہ کاشف مسعود قاضی کو بھی دوبارہ سمن جاری ہوگا۔

خیال رہے کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے شیخ جاسم کو پیش ہونے کا سمن جاری کیا گیا تھا۔ تاہم کئی روز گزرنے کے باوجود شیخ جاسم کی جانب سے سمن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی سمجھتی ہے کہ ان افراد سے بھی تفتیش کرنا ضروری ہے۔

اگر قطری شہزادے شیخ جاسم کی جانب سے جے آئی ٹی کے اس سمن کا بھی کوئی جواب نہیں دیا جاتا تو پھر ممکنہ طور پر سپریم کورٹ شریف خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے قطری خط کو مسترد کر دے گی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل حسین نواز کی جانب سے جے آئی ٹی پر اعتراضات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اگر قطری شہزادہ پاکستان نہیں آتا تو خطوط کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیں گے۔


مزید پڑھیں : پاناما کیس: جےآئی ٹی کی حسین نواز سے چھ گھنٹے تک تفتیش


یاد رہے کہ گزشتہ روز پاناما لیکس کی جے آئی ٹی میں حسین نواز دوسری بار چار گھنٹے تک تحقیقاتی ٹیم کے روبرو موجود رہے جبکہ صدرنیشنل بینک صدرسعید احمد نے بھی جےآئی ٹی کوبیان ریکارڈ کرادیا۔

جے آئی ٹی کے اجلاس کے دوران ایمبولینس کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی بلالیا گیا تھا، ایمبولینس میں موجود شخص نے اپنا تعارف ڈاکٹر عمر کے نام سے کرایا، ایمبولینس فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کیوں بلائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی مزید تحقیقات کےلیے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دیتے ہوئے تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی، اسٹیٹ بینک، نیب اور ایس ای سی پی کے افسران جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی سربراہی ایف آئی اے کے واجد ضیاء کو دی گئی تھی، ے آئی ٹی ہر 15 روز بعد رپورٹ بینچ کو پیش کرنے اور 60 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں