The news is by your side.

Advertisement

پاناماکیس :سپریم کورٹ میں جائیداد کی تقسیم سےمتعلق تفصیلات طلب

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں پانامالیکس سےمتعلق درخواستوں کی سماعت کل تک کےلیےملتوی ہوگئی،مریم نواز کے وکیل کل بھی اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناماکیس کی سماعت کی۔

پاناماکیس میں سماعت کے آغاز پر مریم صفدر کےشاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئےکہاکہ میری موکلہ کی جانب سےداخل جواب پرمیرےدستخط ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ میاں شریف کی وفات کےبعدان کی جائیدادکاکیابنا؟جس پرشاہدحامدنےکہاکہ شریف خاندان میں جائیداد کےحوالے سے سےجھگڑایاتنازع نہیں ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ کیایہ ممکن ہے میاں شریف کی وفات کے بعدوراثتی جائیدادکی تقسیم سےمتعلق ایک دوروزمیں آگاہ کیاجاسکے۔مریم صفدر کے وکیل شاہد حامد نےکہاکہ نواز شریف نے کاغذات نامزدگی میں کہاوہ والدہ کےگھررہتےہیں۔

انہوں نےکہا کہ اگرکوئی ٹیکس ریٹرن نہ جمع کرائےاسے28ہزارجرمانہ دیناپڑتاہے،ٹیکس ریٹرن فائل نہ ہونےپرنااہلی کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نےکہا کہ ٹیکس کا معاملہ ایف بی آرکے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ کیپٹن صفدرکےخلاف ریفرنس الیکشن کمیشن میں زیر التواہے،انہوں نےکہا کہ الیکشن کمیشن کو ریفرنس پر فیصلہ دینے کا مکمل اختیار ہے۔

جسٹس اعجاز نےکہا کہ ریفرنس میں سوال اٹھایاگیاتوسپریم کورٹ مداخلت کیوں کرے؟انہوں نےکہاکہ عدالت آرٹیکل184/3کےتحت متوازی کارروائی کیسےکرسکتی ہے؟۔

مریم صفدر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئےکہاکہ عدالت ریفرنس خود سنے تواس کی مرضی ہے،جس پر جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ جب متعلقہ فورم ہے تو مقدمات ہم کیوں سنیں؟۔انہوں نےکہاکہ دیگرادارےبھی ریاست نےآئین کےمطابق بنائےہیں۔

شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئےکہاکہ وزیراعظم ہو یا عام شہری، قانون سب کے لیے برابر ہے،انہوں نےکہا کہ وزیراعظم ہو یا عام شہری، قانون سب کے لیے برابر ہے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نےکہاکہ کسی رکن اسمبلی کے لیےکیا طریقہ کار ہے؟جس پر شاہد حامد نےکہاکہ منتخب نمائندےکی نااہلی کیلئےکو وارنٹو کی رٹ دائرکی جا سکتی ہے۔انہوں نےکہاکہ وزیراعظم کی نااہلی کےلیےریفرنس الیکشن کمیشن میں زیر التواہے۔

مریم صفدر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئےکہاکہ میری موکلہ کامؤقف ہےبیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے۔مریم صفدر کےمطابق لندن فلیٹس بھائی کے نام پر ہیں۔

شاہد حامد نےکہاکہ حسین نواز کا بھی یہ ہی موقف ہےکہ لندن فلیٹس ان کے نام پر ہیں،انہوں نےکہا کہ درخواست گزار کا اصرار ہےمریم بیرون ملک پراپرٹی کی مالک ہیں۔

مریم صفدرکے وکیل نے کہاکہ میری موکلہ کو والد کے زیرکفالت بھی کہاجارہاہے،انہوں نےکہا کہ ایسااس لیے کیاجا رہا ہے والد کو پراپرٹی کےمعاملےمیں ملوث کیاجا سکے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سےگفتگو

وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہاکہ ڈرامہ کرنے والی جماعت کامقصد پاناماپرسیاست کرنا ہے۔انہوں نےکہا کہ الزامات لگانے والے مریم نواز سے خوفزدہ ہیں۔

مریم اورنگزیب کا کہناتھاکہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ کی طرح عدالت میں غلط دستاویزات جمع کرائے،انہوں نےکہا کہ عمران خان 2018میں آپ کوعوام کی عدالت کاسامنا کرنا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز کا کہناتھاکہ عمران خان آپ کب تک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکیں گے،انہوں نےکہاکہ یہ لوگ ثبوت نہ ہونے پرجھوٹے الزامات پراترے آئے ہیں۔

دانیال عزیز کا کہناتھاکہ ہمت ہے تو عمران خان ٹوئٹ سے متعلق جواب دیں،انہوں نےکہا کہ عمران خان آپ جوگڑھے کھود رہے ہیں خوداس میں گریں گے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مائزہ حمید نےسپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتےہوئےکہاکہ گزرتے وقت کےساتھ پی ٹی آئی والوں کی شکلیں اترتی جارہی ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما کی میڈیا سے گفتگو

تحریک انصاف کےرہنما فواد چودھری کا کہناتھاکہ عدالت کےاندر کچھ باہر آکرکچھ بات کی جاتی ہے،انہوں نےکہا کہ عدالت میں استثنیٰ مانگتے ہیں،باہر آکر انکار کردیتے ہیں۔

فواد چودھری نےکہا کہ پاکستان کے لوگ سچ دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں،انہوں نےکہا کہ جنوری 2014سے پہلے کیپٹن صفدرٹیکس ادا نہیں کرتے تھے،انہیں این ٹی این ہی 28جنوری 2014کوجاری کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے رہنما کا کہناتھاکہ مریم نوازکے پہلے بیان میں قطری خط کاکوئی ذکر نہیں ہے،انہوں نےکہا کہ شریف خاندان نے مختلف دستاویزات پرمختلف لوگوں کے دستخط کرائے ہوئے ہیں۔

جسٹس عظمت شیخ نے مریم صفدرکے وکیل کی توجہ ایک ای میل کی طرف دلائی،مریم نے2004 میں تسلیم کیا وہ نیلسن اور نیسکول کی بینیفیشل اونر ہیں۔انہوں نےکہا کہ یہ دستاویز سب واضح کرتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ کیا ہم مریم کے دستخط اس دستاویز میں دستخطوں سے میچ کرسکتے ہیں، جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ دستاویزات کو دفن کرنے کی کوشش نہ کریں۔

شاہد حامد نےکہا کہ عدالت مریم کے دستخطوں کا جائزہ لے سکتی ہے،انہوں نےکہا کہ مریم صفدرسے منسوب جس دستاویز کا حوالہ دیا جارہا اس پر مریم کے جھوٹے دستخط ہیں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہا کہ دستخط کے معاملے پر کوئی ماہر ہی رائے دے سکتا ہے،انہوں نےکہاکہ ججز دستخط کی سائنس کے ماہر نہیں ہیں۔

جسٹس گلزاراحمد نےکہا کہ بظاہر دستخط میں کافی فرق نظر آرہاہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ مریم نواز کی ذاتی معلومات کے فارم پر بھی دستخط موجود ہیں۔انہوں نےکہاکہ پاناماجا کرمریم نواز کی دستخطوں والی دستاویز نہیں دیکھی جا سکتی۔

جسٹس عظمت سعیدنےکہاکہ منروا کمپنی کا خالی فارم ویب سائٹ سے مل جاتا ہے،انہوں نےکہا کہ منروا کمپنی کو 2006 میں ہائر کیا گیا تو2011 کی دستاویزات کیوں پیش کی گئیں۔

مریم صفدر کے وکیل نےکہاکہ کسی نے میراپرسنل اکاؤنٹ بھی ہیک کرنے کی کوشش کی،انہوں نےکہاکہ مجھے ای میل آئی پاس ورڈ تبدیل کریں۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ کیا آپ مریم نواز کے دستاویز سے انکار کرر ہے ہیں،جس پر مریم صفدر کےوکیل نےکہاکہ یہ تو کہہ دیا مریم نواز بینیفیشل مالک ہیں،لیکن یہ نہیں بتایاوہ نیسکول یانیلسن کمپنی کی مالک ہیں۔

جسٹس عظمت سعیدنےکہا کہ اگر یہ دستاویز 2012 کی ہیں تو اس مقدمے سے اس کا کیا تعلق ہے،جسٹس اعجازاالاحسن نےکہاکہ تحریری جواب کے مطابق مریم نواز صرف نیسکول کی ٹرسٹی ہیں۔

شاہد حامد نےکہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کے مطابق مریم نواز نیسکول اور نیلسن کی ٹرسٹی ہیں،جس پرجسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ مریم نے تحریری بیان میں خود کو نیسکول کی ٹرسٹی تک کیوں محدود رکھا۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہاکہ آپ کے تحریری جواب میں یکسانیت نہیں،انہوں نےکہا کہ مریم نواز نے کہاحسین نواز این ٹی این ہولڈر نہیں ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ مریم نواز 2006 سے ٹرسٹی ہیں تو یہ غلطی نہیں ہونی چاہیے۔

مریم صفدر کےوکیل نےکہاکہ میری موکلہ کے حوالے سے جعلی دستاویز پیش کی گئیں،انہوں نےکہاکہ جعلی دستاویز پیش کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نےکہا کہ تاثرملتا ہے کارروائی کےساتھ جوابات میں بھی بہتری لائی جارہی ہے،جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےکہاکہ ایشوایمانداری کا ہے،انہوں نےکہا کہ ہم سمجھنا چا رہے ہیں کہ سچ کیا ہے۔

مریم صفدر کےوکیل نےکہاکہ تحقیقاتی ادارے کے پوچھنے پر مریم نواز کو کمپنیوں کا بینیفیشل مالک بتایا گیا،انہوں نےکہاکہ موزیک فونسیکا کے پاس معلومات تھیں تو منروا سے پوچھنے کی کیا ضرورت تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ دستخطوں کے حوالے سے ایک معمہ ہے،جس پر شاہد حامد نےکہاکہ میرادعویٰ ہےدستاویز پر دستخط جعلی ہیں،انہوں نےکہاکہ آف شور کمپنیوں کے اصل مالک حسین نواز ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ بینک نے مریم نواز کے حوالے سے منروا کو کیوں خط لکھا ؟جس پر مریم صفدرکے وکیل نےکہاکہ منرواسروسز کمپنی کی خدمات حاصل کرنے پر بینک نے یہ خط لکھا۔

شاہد حامد نےکہاکہ حسین نوازکے ورثا کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کے لئے مریم کو ٹرسٹی بنایا گیا،انہوں نےکہاکہ حسین نواز کی دو شادیاں اور سات بچے ہیں،اثاثوں کی تقسیم کے لئے حسین نواز نے ٹرسٹ بنایا۔

مریم صفدر کے وکیل نےکہاکہ حسین نواز کی دونوں بیویاں الگ ملکوں کی شہریت رکھتی ہیں،جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےکہاکہ مریم نے ٹی وی انٹرویو میں ٹرسٹی ہونے کا کیوں نہیں بتایا؟کیا مریم کو اپنے ٹرسٹی ہونے کا علم نہیں تھا؟۔

مریم صفدر نےانٹرویومیں کہا کہ ان کی لندن میں کوئی جائیدادنہیں،والد کے ساتھ رہتی ہوں،جسٹس اعجاز الاحسن نےکہا کہ مریم والد کے ساتھ کب رہتی تھیں، وہ تو دادی کے ساتھ رہتی تھیں۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ناماماکیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کل تک کےلیے ملتوی کردی گئی،مریم صفدر کے وکیل کل چوتھے روز بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں