The news is by your side.

Advertisement

پانامہ پیپرزکی تحقیقات: ایف بی آرخاطر خواہ نتائج حاصل نہ کرسکا

اسلام آباد : پاناما لیکس کی تحقیقات پرایف بی آر حرکت میں ضرور آیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کرسکا۔ ایف بی آر نے تین سو تین افراد کو نوٹسز جاری کئے لیکن جواب چند نے ہی افراد نے دیا۔ ایف بی آر نے شریف خاندان کو نوٹس بھیجے ضرور جواب کیا آیا اس حوالے سے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاناما پیپیرز میں سیکڑوں پاکستانیوں کے نام آئے۔ ایف بی آر ایک سو اکتالیس افراد کا کوئی سراغ نہ لگا سکا۔

ایف بی آر حکام نے پاناما پیپرز پر تین سو تین افراد کو نوٹسز جاری کیے۔ چوالیس افراد نے ٹیکس ادارے کے نوٹسز کا جواب دیا۔ اوران میں سے صرف چودہ پاکستانیوں نے آٖ ف شور کمپنیوں کا اعتراف کیا۔ تینتیس افراد نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی۔

ایف بی آر کے نوٹسز پر سترہ افراد نے آف شور کمپنیوں کی تردید کی ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پہلے نوٹس کا جواب نہ دینے پر پچیس ہزار جرمانہ کیا جائے گا۔

دوسرے نوٹس پر بھی جواب نہ ملنے پر پچاس ہزار جرمانہ ہوگا۔ کوئی جواب نہ دینے والوں کیخلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کے پانچ سال کے ریکارڈ کی چھان بین کا قانون ہے۔ اس سے پچھلی مدت کی جانچ پڑتال نہیں ہو سکتی۔

ایف بی آر نے شریف خاندان سے مریم نواز۔ حسن نواز،، حسین نواز اور حمزہ شہباز سمیت تین سو تین افراد کو نوٹسز بھیجے تھے۔ ایف بی آر نے یہ نہیں بتایا کہ شریف خاندان کے افراد نے کیا جواب دیے ہیں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں