The news is by your side.

Advertisement

جے آئی ٹی سے عدم تعاون کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد : پاناما عمل درآمد کیس میں عدالتی بینچ نے تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ جےآئی ٹی دائیں بائیں نہ دیکھے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھے، جے آئی ٹی سے عدم تعاون کے سنگین نتائج ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جےآئی ٹی شکایات کی درخواست پر سماعت کی، سپریم کورٹ نے پاناماکیس کی جے آئی ٹی ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھیں۔

عدالت عظمیٰ نے کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ پبلک آفس ہولڈرعدلیہ پرحملہ آور ہورہے ہیں، سب سے بڑی مہم حکومت چلارہی ہے، جے آئی ٹی سے عدم تعاون کے سنگین نتائج ہوں گے، ممبران کو ہراساں کرنے کی شکایت پرسپریم کورٹ نے ڈائریکٹرجنرل آئی بی طلب کرنے کا اشارہ دے دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ریکارڈ ٹیمپرنگ کا جائزہ لینے کاحکم دےدیا، ڈی جی آئی بی کے خلاف حکم سے پہلے اٹارنی جنرل کو معاونت کی ہدایت بھی کی گئی۔

بینچ نے استفسار کیا کہ آئی بی کا مینڈیٹ کیا ہے؟ آئی بی ہمارا ڈیٹا بھی جمع کرتی ہے؟

جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ آپ سے کسی کی طرف داری کی امید نہیں تھی، تمام چیزوں پر نظر رکھی ہوئی ہے، اب صرف مخصوص نہیں ہر چیز لیک ہورہی ہے مناسب حکم جاری کریں گے بعدازاں عدالت نے جےآئی ٹی کو کل حاضری سے استثنی دیتےہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں