The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نےپاناما کیس پرفیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانامالیکس سے متعلق درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیاہے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناماکیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانامالیکس سےمتعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا،پاناماکیس کا فیصلہ دلائل پرغورکرنےکےبعدتحریری صورت میں جاری کیاجائےگا۔

نعیم بخاری نے پاناماکیس کی سماعت کے آغازپراپنے دلائل دیتے ہوئےکہاکہ گزشتہ روز گلف اسٹیل ملز کے واجبات کا نکتہ اٹھایا تھا،جس پرجسٹس عظمت سعید شیخ نےکہاکہ جو بات پہلے کر چکے ہیں اسےدہراکروقت ضائع نہ کریں۔

تحریک انصاف کےوکیل نےکہاکہ سہ فریقی معاہدہ دوران سماعت پیش کیاگیاتھا۔انہوں نےکہاکہ گلف اسٹیل کےواجبات سےمتعلق کوئی وضاحت نہیں آئی۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ گلف اسٹیل کےواجبات سےمتعلق آپ کی درخواست میں کوئی بات نہیں ہے،نعیم بخاری نےکہاکہ گلف اسٹیل ملز کے واجبات 63 ملین درہم سےزیادہ تھے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ ابتدائی دلائل میں آپ نے یہ بات نہیں کی،تحریک انصاف کےوکیل نےکہاکہ مریم نواز کی دستخط والی دستاویز میں نے تیار نہیں کی۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آپ مریم کے دستخط والی دستاویز کودرست کہتے ہیں،انہوں نےکہاکہ شریف فیملی اس دستاویز کوجعلی قرار دیتی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ عدالت میں دستخط پر اعتراض ہو تو ماہرین کی رائے لی جاتی ہے،انہوں نےکہاکہ ماہرین عدالت میں بیان دیں تو ان کی رائے درست مانی جاتی ہے۔

جسٹس اعجاز نےکہاکہ آپ ہمیں خصوصی یااحتساب عدالت سمجھ کر فیصلہ لینا چاہتے ہیں،انہوں نےکہاکہ متنازع دستاویز کو چھان بین کے بغیرکیسےتسلیم کریں۔

جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ عدالت ٹرائل کورٹ نہیں جو یہ کام کرے،جس پر نعیم بخاری نےکہاکہ یوسف رضا گیلانی کیس میں عدالت ایسا کر چکی ہے۔

جسٹس اعجاز نےکہاکہ گیلانی کیس میں عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ کیا تھا،نعیم بخاری نےکہاکہ یہ بھی وزیراعظم کے ان اثاثوں کا مقدمہ ہےجو ظاہرنہیں کیےگئے؟۔

انہوں نےکہاکہ کیا ایسے دستاویزات کو ثبوت مانا جا سکتا ہے،کیا ہم قانون سے بالاتر ہو کر کام کریں؟۔جسٹس اعجازنےکہاکہ عدالت اپنے فیصلوں میں بہت سے قوانین وضع کر چکی ہے۔

جسٹس اعجاز نےکہاکہ عدالت نے ہمیشہ غیر متنازع حقائق پر فیصلے کیے،جسٹس گلزار نےکہاکہ بنیادی حقوق کا معاملہ سن رہے ہیں،مقدمہ ٹرائل کی نوعیت کا نہیں ہے۔جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ کیامفاد عامہ کے مقدمے میں قانونی تقاضوں کو تبدیل کر دیں۔

جسٹس شیخ عظمت نےکہاکہ آج میری طبعیت ٹھیک نہیں زیادہ تنگ نہیں کرنا،جسٹس آصف کھوسہ نےکہاکہ فریقین کےدستاویزات کاایک ہی پیمانہ پر جائزہ لیں گے۔انہوں نےکہاکہ فریقین کی دستاویزات تصدیق شدہ ذرائع سے نہیں آئیں۔

نعیم بخاری کاکہناہےکہ وزیر اعظم نےاپنے خطاب میں سچ نہیں بولا،انہوں نےکہاکہ میرے وزیر اعظم نےایمانداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔وزیراعظم نےموزیک فرانسیکاا کو کوئی قانونی نوٹس نہیں بھجوایا۔

تحریک انصاف کےوکیل نےکہاکہ گیلانی کیس کی طرح میں بھی عدالت سے ڈیکلریشن مانگ رہاہوں،سالہا سال تک قطری مراسم کا کوئی ذکر نہیں کیاگیا۔

نعیم بخاری نےدلائل دیتے ہوئےکہاکہ کیا ایسا شخص وزیر اعظم ہو سکتا ہے،قطری کوایل این جی کا ٹھیکہ دیا گیا، یہ بات اخبار میں پڑھی۔جسٹس گلزارنےکہاکہ قطری ٹھیکےوالی بات مفادات کے ٹکراؤ کی جانب جاتی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ ہمارے سامنے ایل این جی کے ٹھیکے کا معاملہ نہیں،نعیم بخاری نےکہاکہ کیا دنیا میں کسی نے پاناما لیکس کو چیلنج کیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ لندن عدالت نے آبزرویشن بیان حلفی کے بنیاد پر دی گئی،نعیم بخاری نےکہاکہ قطری نے کہہ دیا قرض کی رقم اس نے ادا کی۔انہوں نےکہاکہ اتنی بڑی رقم بینک کے علاوہ کیسے منتقل ہو گئی۔

پی ٹی آئی کےوکیل نےکہاکہ 1980سے2004 تک قطری شیخ بینک کا کردار ادا کرتے رہے۔انہوں نےکہاکہ سرمایہ کاری پر منافع اور سود بھی بنتاگیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ دستاویزات پر نہ دستخط ہےنہ کوئی تاریخ ادائیگی کس سال میں کی گئی وہ بھی نہیں لکھا۔انہوں نےکہاکہ دستاویزات مسترد کرنا شروع کیں تو 99.99فیصد کاغذات فارغ ہوجائیں گے۔جسٹس کھوسہ نےکہاکہ ایسی صورت میں ہم واپس اسی سطح پر آ جائیں گے۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نےدلائل مکمل کرلیے،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے دلائل کا آغاز کردیاہے۔

شیخ رشید نےدلائل کا آغازکرتے ہوئےکہاکہ جج صاحب کا صحت یاب ہونا اللہ کا احسان ہے،انہوں نےکہاکہ اتنے تسلسل سےنہ اسکول گیا نہ کالج لیکن عدالت باقدعدگی سے آتاہوں۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نےکہاکہ عدالت نے 371 سوالات پوچھے سب سے زیادہ شیخ عظمت صاحب کے تھے،جواب نہ ملنے پر جج صاحب کا دل زخمی ہوا۔

انہوں نےکہاکہ میراکیس اسمارٹ،سویٹ اور شارٹ ہے،جسٹس کھوسہ نےکہاکہ آج آپ نےسلگیش کا لفظ استعمال نہیں کیا۔جسٹس کھوسہ نےکہاکہ آج کل انصاف اور فیصلے کے معنی مختلف ہوگئے ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ انصاف اس کو کہا جاتا ہےجو حق میں آئے،اگرفیصلہ حق میں نہ آئے تو کہتے ہیں ملی بھگت ہوگئی۔انہوں نےکہاکہ فیصلہ حق میں نہ آئےتو کہتے ہیں جج نالائق ہے،یہ ہمارےمعاشرے میں بڑی بدقسمتی ہے۔

شیخ رشید نےکہاکہ میرا کیس پہلے دن سے ہی صادق اور امین کا ہے،انہوں نےکہاکہ عدالت نے اپنے ایک فیصلےپر موتی جوڑے ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نےکہاکہ عدالت نے جن20اراکین کو نااہل کیا ان کے فیصلے بھی سامنےرکھناہوں گے،انہوں نےکہاکہ یہ دنیا کا ایسا کیس ہےجوآپ جیسےعظیم ججز کےسامنے پیش ہوا۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ کچھ لوگوں کو 184/3 کے مقدمے میں الیکشن ٹریبونل نے نا اہل کیا،شیخ رشید نےکہاکہ کرپشن کو سزا نہ ملی تو ملک خانہ جنگی کی طرف جائےگا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نےکہاکہ نواز شریف نے کہا تھا کرپشن کرنے والے اپنے نام پر کمپنیاں اور اثاثے نہیں رکھتے،انہوں نےکہاکہ دبئی فیکٹری کب اور کیسے لگی، پیسہ کیسے باہر گیا۔

شیخ رشید نےکہاکہ عدالت نے 20 سے زائد افراد کو اثاثے چھپانے پر نااہل کیا ہے،انہوں نےکہاکہ عدالت صادق اور امین کی کئی فیصلوں میں تعریف کرچکی ہے۔

عوامی مسلم لیگ کےسربراہ نےکہاکہ ہمارے شہر میں ایسے ہی لفظ استعمال ہوتے ہیں،انہوں نےکہاکہ میرے شہر میں لوگ قانون کو نہیں فیصلے کوزیادہ سمجھتے ہیں۔

شیخ رشید کا کہناہےکہ ایمرجنسی والے کیس میں بھی سپریم کورٹ نے اپنی استدعا سے بڑھ کر ریلیف دیا،جس پر جسٹس کھوسہ نےکہاکہ جس نےآپ کولکھ کردیا ہے،پتہ نہیں اس نے فیصلے پڑھے بھی ہیں یا نہیں۔

انہوں نےکہاکہ رات کو تنہائی میں شریف فیملی کی دستاویزات کو دیکھا ہے،مجھےتوتمام دستاویزات جعلی لگتی ہیں۔

شیخ رشید نےدلائل دیتے ہوئےکہاکہ سپریم کورٹ نے تو نواز شریف کو ملک میں داخلے کی اجازت دی،جسٹس کھوسہ نےکہاکہ آپ نواز شریف کی انٹری نہیں ایگزٹ کا کیس لائے ہیں۔

واضح رہےکہ پانامالیکس سے متعلق درخواستوں پرعدالت عظمیٰ نےفیصلہ محفوظ کرلیا،پاناماکیس میں دیےگئےدلائل پرغورکرنے کےبعد سپریم کورٹ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری کیاجائےگا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں