site
stats
اہم ترین

ہمیں کہاگیاسارے ثبوت موجود ہیں‘ہمیں ثبوت نظر نہیں آرہے‘جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد : وزیراعظم نوازشریف کی تقریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں،12ملین درہم کیسے ملے؟نظر نہیں آرہا،سپریم کورٹ نے پاناماکیس میں اہم سوالات اٹھادیے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجربینچ نے پاناماکیس کی سماعت کی۔

پاناماکیس کی سماعت کے آغاز پرجسٹس گلزاراحمدنےکہاکہ ایسے کتنے مقدمات ہیں جن میں اپیل دائر نہیں کی گئی،جس پر وقاص ڈارنے جواب دیاکہ ایسےلاتعداد مقدمات ہیں جن میں اپیل دائرنہیں کی گئی۔

وقاص ڈار نےکہاکہ ججز کے فیصلے میں اختلاف کی وجہ سے اپیل دائر نہیں کی گئی،جس پر جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ ایسے بہت سے مقدمات ہیں جن میں ججز نے متفقہ فیصلہ دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ اس پہلو کو زیر غور لائیں گے جب نیب کی بار آئے گی،جس پر پراسیکیوٹر نیب نےجواب میں کہاکہ ججز کے متفقہ فیصلے کی وجہ سے اپیل دائر نہیں کی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ ریکارڈ سے ثابت ہے فیکٹری کی فروخت سے 12 درہم ملین ملے،جس پر جسٹس اعجاز افضل نےکہا کہ بینک کے واجبات کس نے ادا کیے۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ ہو سکتا یے فیکٹری کے منافع سے واجبات ادا کیے گئے ہوں،جس پر جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ75فیصد حصص کی فروخت سے21 ملین درہم قرض کی مد میں ادا کیے،انہوں نےکہاکہ فیکٹری کے باقی واجبات کا کیا ہوا۔

جسٹس اعجازافضل کے سوال کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ کاروبار پر کنٹرول میاں شریف کا تھا،انہوں نےکہاکہ طارق شفیع گلف فیکٹری کے روزانہ کے معاملات نہیں دیکھتے تھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ وزیراعظم کی تقریر کے مطابق بھٹو دور میں 6 نئی فیکٹریاں لگانے کا ذکر ہے،جسٹس گلزار نےکہاکہ جب پاکستان میں 6 نئی فیکٹریاں لگائیں تو گلف فیکٹری کی کیا ضرورت تھی۔

جسٹس گلزاراحمد نےکہاکہ وزیراعظم کی تقریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ دبئی مل ایک حقیقت ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ ہمیں کہاگیاسارے ثبوت موجود ہیں،ہمیں ثبوت نظر نہیں آرہے،انہوں نےکہا کہ غلطی ہوسکتی ہے کہ ہمیں نظرنہ آیا ہو۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ کیا یہ سب دانستہ طور پر کیا گیا،جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ اس کہانی کا اہم حصہ قطری سرمایہ کاری ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ وزیراعظم کی تقریر اور طارق شفیع کے بیان حلفی میں قطر ی سرمایہ کاری کا ذکر نہیں،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ قطری خاندان کی رضامندی کے بعد قطر سرمایہ کاری کا موقف سامنے لایا گیا۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ فیکٹری کی رقم کے12ملین درہم کیسے ملے،طارق شفیع جانتے تھے،جسٹس گلزاراحمد نےکہاکہ عدالت طارق شفیع کو کٹہرے میں بلالے۔انہوں نےکہاکہ سلمان اکرم12 ملین درہم کیسے ملے یہ نظر نہیں آ رہا۔

جسٹس عظمت سیعدنےکہاکہ فیکٹری کی فروخت کا معاہدہ موجود ہے،انہوں نےکہاکہ معاہدے میں لکھاگیا ہے12 ملین درہم ملے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہا کہ 12ملین درہم کی رقم نقد وصول کی تھی یا بینک کے ذریعے ؟جس پر حسین نوازکے وکیل نےکہاکہ بیان حلفی میں طارق شفیع نے اس متعلق تفصیل بیان نہیں کی۔

سلمان اکرم نےکہاکہ جوسوالات مجھ سے پوچھے جا رہے ہیں وہ طارق شفیع کو بطورگواہ بلا کر پوچھ لیے جائیں،ایسا نہیں کہ ان سوالوں کے جوابات نہیں ہیں۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ بارہ ہزار درہم کی رقم الثانی فیملی کو6اقساط میں سرمایہ کاری کےلیےدی گئی،انہوں نےکہا کہ بڑے نوٹوں میں ادائیگی کی جائے تو کرنسی کا حجم میری ان دو کتابوں سےزیادہ نہیں ہوگا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ کرنسی اونٹوں پر لاد کر دینے کی بات بعید از قیاس ہے، انہوں نےکہاکہ شریف فیملی کا جہاز کراچی بندرگاہ روک لیا گیا جس سے 50 کروڑ کا نقصان ہوا۔

انہوں نےکہاکہ شریف فیملی نے1993 سے1996 میں لندن کے فلیٹس نہیں خریدے،جبکہ لندن فلیٹس کی 1993 سے 1996 میں مجموعی پاکستانی مالیت 7 کروڑ بنتی ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نےکہاکہ یہ فلیٹس شریف فیملی کے زیر استعمال کب آئے،جس پر حسین نوازکےوکیل نےکہاکہ یہ کوئی راز نہیں،شریف فیملی کے بچے شروع سے وہاں رہ رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ 1993سے 1996 میں آف شور کمپنیوں کا مالک کون تھا،جس پر سلمان اکرم نےکہاکہ شریف فیملی اس وقت آف شور کمپنیوں کی مالک نہیں تھی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ شریف فیملی نے فلیٹس 2006 میں خریدے،انہوں نےکہاکہ 12ملین ریکارڈ میں ثابت ہےدیکھ لیں۔انہوں نےکہاکہ یہاں جرح یا ٹرائل نہیں ہو رہا۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ فیکٹری کی فروخت سے 12 ملین درہم ملے یہ غیر متنازع حقائق ہیں،انہوں نےکہاکہ ہر معاہدے میں بینک کا ذکر ہے لیکن 12 ملین درہم کیش میں لے لیے۔

حسین نوازکے وکیل نےکہاکہ یہ کوئی اچنبے کی بات نہیں، نقد رقم بھی لی جاتی ہے،جس پر جسٹس اعجازافضل نےکہاکہ پاناما کا مقدمہ اپنی نوعیت کا کیس ہے۔انہوں نےکہا کہ جو دستاویز لائی گئیں اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا۔

سلمان اکرم نےکہاکہ 1980میں دبئی میں 1000 درہم کا نوٹ موجود تھا،انہوں نےکہاکہ یہ اتنی بڑی رقم نہیں کہ اونٹوں پر لے جائی جاتی،جبکہ 2006سے پہلے کمپنیوں کے بیریئر سرٹیفکیٹس الثانی خاندان کے پاس تھے۔

انہوں نےکہاکہ رحمان ملک رپورٹ کے مطابق 93 میں یہ کمپنیاں انس پارکر کے پاس تھیں،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ کیا ہم رحمان ملک کی رپورٹ درست تسلیم کر لیں،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ تسلیم نہیں کر رہا رپورٹ آئی تو ذکر کیا۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ الثانی خاندان نے 1993 سے 1996 میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے فلیٹس خریدے،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ حماد بن جاسم سے پوچھ لیں انہوں نے یہ فلیٹس کب خریدے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں شریف فیملی کے بچے وہاں رہ رہے تھے،جسٹس گلزار نےکہاکہ شریف فیملی کے بچے وہاں کیسے رہ رہے تھے۔

جسٹس آصف کھوسہ نےکہاکہ حسن اور حسین نواز کب سے وہاں رہنا شروع ہوئے،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ خاندانی تعلقات کی بدولت 1993 میں ان فلیٹس میں حسن، حسین رہتے تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ بڑےگہرے تعلقات تھے،شریف فیملی 13 سال تک رہائش پذیر رہی،جس پر حسین نواز کے وکیل نے جواب دیاکہ شریف خاندان فلیٹس کا کرایہ ادا کرتا تھا۔انہوں نےکہاکہ الثانی خاندان کےپاس لندن میں بہت سے فلیٹس ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ عدالت مفروضوں کو نہ دیکھے،انہوں نےکہاکہ لندن فلیٹس التوفیق کمپنی کے پاس گروی نہیں رکھے گئے۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےکہاکہ کیا شیزی نقوی پاکستانی شہری ہے،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ شیزی نقوی پاکستانی ہے اور ابھی تک التوفیق کمپنی سے وابستہ ہے۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ کیا شیزی نقوی کے بیان حلفی کی نقل کاپی موجود ہے،جس پر حسین نواز کےوکیل نےکہاکہ نقل کاپی موجود ہے، تصدیق شدہ نہ ہونے کی وجہ سے فائل نہیں کی۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ شیزی نقوی کی برطانوی عدالت میں دی گئی بیان حلفی کی نقل جمع کرا دیں،جس پرسلمان اکرم راجہ نےکہاکہ برطانوی عدالت نے شیزی نقوی کے بیان پر فلیٹس ضبطگی کا نوٹس جاری کیا تھا۔

جسٹس عظمت نےکہاکہ برطانوی عدالت کا حکم عبوری تھا،کیادوسری پارٹی کی عدم موجودگی پر یہ حکم دیا گیا؟جس پر حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ التوفیق کمپنی کےواجبات 34 ملین ڈالر کے نہیں تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ کیا رقم ادائیگی پر برطانیہ کی عدالت نے چارج واپس لیا،سلمان اکرم راجہ نےجواب دیاکہ التوفیق کیس سے ثابت نہیں ہوتا شریف فیملی 1999 سے پہلے فلیٹس کی مالک تھی۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ آپ کہتے ہیں فلیٹس 2006 میں خریدے گئے،جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ آپ 13سال فلیٹس میں رہے انگلی تو آپ کی طرف اٹھے گی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہانگلی میرے موکل کی طرف نہیں اٹھ سکتی وہ اپنے موقف پر قائم ہیں،جس پر جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ یقیناً آپ کو قدموں پرکھڑاہونا ہے،گھٹنوں پرنہیں۔

حسین نوازکے وکیل نےکہاکہ التوفیق کمپنی نے16 ملین ڈالر قرض کے لیے برطانوی عدالت میں مقدمہ کیا،جس پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ ہمیں بتایا گیا قرض کی رقم 34 ملین ڈالرز تھی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ 34 ملین ڈالرز قرض کا معاملہ نہیں تھا،جسٹس آصف کھوسہ نےکہا کہ التوفیق کمپنی سے قرض کی سیٹلمنٹ حتمی طور پر کتنی رقم پر ہوئی۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ 8ملین ڈالرز قرض کی سیٹلمنٹ ہوئی،جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ قرض کے لیے کیا گارنٹی دی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حدیبیہ مل کی مشینری کو بطور گارنٹی رکھاگیاتھا،جسٹس عظمت نےکہاکہ یہ تمام ریکارڈ ایس ای سی پی کے پاس بھی ہونا چاہیے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ التوفیق کمپنی سے جب سیٹلمنٹ ہوئی کیا حسن اور حسین برطانیہ میں تھے،جس پر سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حسین نواز پاکستان میں حراست میں تھے۔

انہوں نےکہاکہ حسین نواز کو سیٹلمٹ کا مکمل علم نہیں کیونکہ یہ 2000 کے آوائل میں ہوئی،حسین نوازکےوکیل نےکہاکہ اکتوبر1999 سے دسمبر 2000 تک پوری فیملی حراست میں تھی۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حسن نواز 1999 میں لندن میں تھے،جسٹس عظمت نےکہاکہ مطلب یہ ہے8ملین ڈالرز شریف فیملی نےادا نہیں کیے۔

حسین نواز کے وکیل نےکہاکہ ادارے کچھ نہیں کر رہے تو یہ چیز عدالت کے راستے میں رکاوٹ نہیں،جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ معاملہ اگر چیف ایگزیکٹو کاہوتوکیا کیاجائے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ چیف ایگزیکٹو اداروں کےسربراہ کا تقرر اپوزیشن کی مشاورت سے کرتے ہیں،انہوں نےکہاکہ عدالت اداروں کو تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔

جسٹس عظمت سعید نےکہاکہ اگر آپ عدالت کو دائرہ سماعت پر جانے کا کہیں گے تو میں اس کا حامی نہیں،جسٹس آصف کھوسہ نےکہاکہ
واپس جانے کو تیار نہیں آگے بڑھنے میں ہمیں کوئی رکاوٹ نہیں۔

حسین نوازکے وکیل نےکہاکہ میں تو صرف قانون پر عملدرآمد کا کہہ رہا ہوں،انہوں نےکہاکہ عدالت 184/3 کے مقدمےمیں سزا نہیں دے سکتی۔انہوں نےکہاکہ فیصلوں میں موجود ہےعدالت نے درست تحقیقات کو یقینی بنایا۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ وزیراعظم کی تقریر کو دیکھنا ہےتو ریکارڈ کو سامنے رکھا جائے،انہوں نےکہاکہ کیاعدالت وزیراعظم کی تقریر اور ریکارڈ کو دیکھ کر نا اہلی کا فیصلہ کر سکتی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ کیا عدالت شواہد ریکارڈ کیے بغیر اتنے سنجیدہ ایشو پر فیصلہ دے سکتی ہے،انہوں نےکہاکہ عدالت صرف غیر متنازع حقائق پر ہی فیصلہ دے سکتی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہاکہ حقائق متنازع نہیں تھے اس لیے مشرف کے خلاف عدالت نے براہ راست فیصلہ دیا،انہوں نےکہاکہ عمران خان نے عدالت میں کہہ دیا ہمارا کام الزام لگانا ہے۔

حسین نوازکے وکیل نےکہاکہ دوسری جانب سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا،انہوں نےکہاکہ یہاں ٹرائل نہیں ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہاہے۔

سلمان اکرم راجہ نےکہا کہ حسین نواز اگرکچھ چھپا رہے ہوں توکیا سزا وزیراعظم کو دی جا سکتی ہے؟ انہوں نےکہاکہ وزیراعظم کی تقریر کو مسترد نہیں کر سکتے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ وزیراعظم کے پہلے وکیل نے تقریر کو سیاسی کہا،انہوں نےکہاکہ مخدوم علی خان نے بہتر الفاظ استعمال کیےاورکہاکہ تقریر عمومی نوعیت کی تھی۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ اگرنتیجے پر پہنچیں تو حسین نواز نے پورا سچ نہیں بولا،جسٹس کھوسہ نےکہاکہ وزیراعظم کے وکیل نےعدالت میں کہا جائیداد بچوں کی ہے ان سے پوچھیں۔

جسٹس آصف سعید کھوس نےکہاکہ مریم سے پوچھا تو انہوں نے کہا وہ ٹرسٹی ہیں،اب آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس بھی کچھ نہیں۔اگر عدالت کو کچھ نہیں بتانا اور کہیں کر لیں جوکرنا ہے۔

سلمان اکرم نےکہاکہ جو معاملہ شیخ جاسم اور میاں شریف کے درمیان تھا اس کی توقع نہ کی جائے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ آپ بہت بڑا جو کھیل رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نےکہاکہ کیامیاں شریف نے سرمایہ کاری پربچوں کو آگاہ نہیں کیا تھا،سرمایہ کاری کی رقم 20 سال قطر پڑی رہی۔انہوں نےکہاکہ کاروباری شراکت دار نے تفصیلات کیوں نہیں دیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top