وعدہ معاف گواہ کامعافی کے بعد بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے‘جسٹس آصف سعید کھوسہ -
The news is by your side.

Advertisement

وعدہ معاف گواہ کامعافی کے بعد بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے‘جسٹس آصف سعید کھوسہ

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناماکیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت پیر تک کےلیے ملتوی کردی گئی،اسحاق ڈار کے وکیل پیرکو اپنے دلائل کاسلسلہ جاری رکھیں گے۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت کے پانچ رکنی لارجز بینچ نے پاناماکیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

پاناماکیس کی سماعت کے آغاز پروزیراعظم نوازشریف کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت عظمیٰ میں جائیداد کی تقسیم اورتحائف کے تبادلوں کی تفصیلات جمع کرانےکےلیے پیر تک مہلت مانگ لی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ پہلے کہاگیاکہ تمام دستاویزات ہیں، پیش کر دی جائیں گی،انہوں نےکہاکہ اب آپ دستاویزات پیش کرنے کے لیے وقت مانگ رہے ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے دلائل کا آغاز کردیا

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کےوکیل شاہد حامد نےدلائل دیتے ہوئےکہاکہ میرے موکل پرالزام ہے پچیس اپریل دوہزار کومجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دیا۔

شاہد حامد نے کہا کہ اعترافی بیان میں 14.866ملین روپے کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیاگیا،انہوں نےکہاکہ الزام میں کہا گیاوزیراعظم کے بھائی کے لیےاکاؤنٹ کھلوائے گئے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا اسحاق ڈار اپنے بیان حلفی سے انکاری ہیں؟جس پر شاہد حامد نےکہاکہ اسحاق ڈار اپنے بیان کی مکمل تردید کرتے ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل نےکہا کہ فوجی بغاوت کے بعد میرے موکل کو پہلے گھرمیں نظر بند رکھا گیا،اور انہیں تعاون پر حکومت میں شمولیت کی پیش کش کی گئی۔

شاہد حامد نےکہا کہ پہلے سے لکھے گئے ایک بیان پر زبردستی دستخط کرائے گئے،بیان لینے کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔انہوں نےکہا کہ میرے موکل کو 2001تک حراست میں رکھاگیا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نےکہا کہ رہائی کے بعد تفصیلی انٹرویو میں میرے موکل نے اپنے بیان کی تردید کی،جس پر جسٹس اعجاز افضل نےکہا کہ مجسٹریٹ تصدیق نہ کرتا تو اس کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔

شاہد حامد نے کہاکہ 15اکتوبر 1999کواسحاق ڈار کو حراست میں لیاگیا۔انہوں نےکہاکہ 1994میں حدیبیہ انجینئرنگ اورحدیبیہ پیپرملزکے خلاف مقدمہ ہوا۔

اسحاق ڈار کےوکیل نےکہاکہ میاں شریف، حسین نواز، عباس ، نواز ، شہباز شریف اورحمزہ شہباز نامزد تھے،انہوں نےکہاکہ ان ایف آئی آرز پر چالان پیش ہوا اور کیس کا فیصلہ 1997 میں ہوا۔شاہد حامد نےکہاکہ1997میں ماتحت عدالت نے تمام نامزدملزمان کے خلاف چالان ختم کرکے بری کر دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ اس کیس میں صرف چالان ختم ہوا، ایف آئی آر موجود ہیں،انہوں نےکہاکہ ایک درخواست میں صرف چالان ختم ہوا اور ملزمان بری ہو گئے یہ کیسے ممکن ہوا؟۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ عدالت عالیہ رٹ پٹیشن میں ایسا فیصلہ کیسے دے سکتی ہے؟جس پر شاہد حامدنےکہاکہ یہ بیان صرف کاغذ کا ٹکڑا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں،شواہد کا حصہ ہےجس پر کبھی کارروائی نہیں ہوئی،انہوں نےکہاکہ نیب ریفرنس تحقیقات قانون کے تحت نہ ہونے پر خارج ہوا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ ہائی کورٹ نے اس کیس کو تکنیکی بنیادوں پر ختم کیا تھا،جس پر شاہد حامد نےکہا کہ نیب ریفرنس میں بھی وہی الزامات لگائے گئے تھے جو ایف آئی اے نے لگائے۔

شاہد حامد نےکہاکہ 1997میں عدالت عالیہ ان الزامات پر ملزمان کو بری کر چکی ہے،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ اسحاق ڈار کے خلاف2ججز نے انٹراکورٹ اپیل سنی جو عموماً5ججز سنتے ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل نےکہاکہ پروٹیکشن قانون کے تحت ایک الزام میں بری ہونے پر دوبارہ کارروائی نہیں ہو سکتی،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ پروٹیکشن قانون بنا تو نواز شریف وزیراعظم اور اسحاق ڈار وزیر خزانہ تھے؟۔

شاہد حامد نےکہاکہ اسحاق ڈار نہ ہی وزیرخزانہ تھے اور نہ ہی قواسمبلی کےممبر تھے۔جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کیس میں چیئرمین نیب کو اپیل کرنی چاہیے تھی۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ چیئرمین نیب اپیل میں سپریم کورٹ آتے تو ہم دوبارہ تفتیش کرنے کا حکم دیتے،انہوں نےکہاکہ شریف فیملی کے خلاف 1994 کی ایف آئی آر اور 2000 کی ایف آئی آر میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نےکہا کہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کا تعلق شریف فیملی کے فنانشل کرائم سے بھی نہیں۔جسٹس آصف کھوسہ نےکہاکہ کیا کسی بھی ملزم کو شامل تفتیش کیے بغیر کیس ختم کر دیا گیا؟۔

شاہد حامد نےکہا کہ اس وقت حمزہ شہباز کے علاوہ سب لوگ بیرون ملک تھے،جس پر جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےکہاکہ اگر کوئی شامل تفتیش نہ ہو تو 12 ارب کا معاملہ ختم کر دیا جائےگا۔

جسٹس عظمت سعید نےکہا کہ کیا فارن کرنسی اکاؤنٹس کو اکنامک ریفارمز میں پروٹیکشن دی گئی ؟انہوں نےکہا کہ فارن کرنسی اکاؤنٹس جو پاکستان میں ہوں ان کو پروٹیکشن دی گئی۔

شاہد حامد نےکہا کہ کیس دو گراؤنڈز پر ختم کیا گیا،جسٹس اعجاز افضل نےکہاکہ کیا اسحاق ڈار کو بیان سے پہلے وعدہ معاف گواہ بنایا گیا یا بعد میں؟جس پرشاہد حامدنےکہاکہ اسحاق ڈار کو اعترافی بیان دینے سے پہلے وعدہ معاف گواہ بنایاگیا تھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نےکہاکہ حدیبیہ پیپر ملز کا ابتدائی ریفرنس 27 مارچ 2000 کو بنایا گیا،جبکہ حتمی ریفرنس 16 نومبر 2000 کو بنایا گیا۔

شاہد حامدنےکہاکہ تین دسمبر 2012 کو ریفرنس ہائی کورٹ نے ختم کیا دوبارہ تفتیش پر اختلاف کیا،انہوں نےکہاکہ ریفری جج نے2014 میں دوبارہ تفتیش کے اختلافی فیصلے میں تفتیش نہ کرانے کا فیصلہ دیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہاکہ کیا اسحاق ڈار کو معافی دی گئی تھی ؟انہوں نے کہا کہ اگرمعافی نہیں دی گئی تو یہ ایک ملزم کا بیان ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ وعدہ معاف گواہ کامعافی کے بعد بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے،انہوں نےکہاکہ اس طرح کے معاملے میں ملزم کو معافی کی پیشکش کی جاتی ہے۔انہوں نےکہاکہ معافی قبول کرنے کےبعدایسا بیان دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ کئی کیسز میں ملزم معافی کی پیش کش قبول نہیں کرتے،اس کیس میں یہ معاملہ بہت اہم ہے،انہوں نےکہاکہ نیب کے سیکشن 26 ای کے تحت دو طرح کی معافی ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کاریکارڈ طلب کرلیا۔

واضح رہےکہ سپریم کورٹ میں پاناماکیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت پیرتک کےلیے ملتوی کردی گئی،اسحاق ڈار کے وکیل اپنے دلائل اگلی سماعت پر جاری رکھیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں