The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا: ذہنی پریشانیوں‌ میں‌ اضافہ دیکھا گیا

دنیا کووِڈ 19 کی بد ترین وبا کی نئی لہر کی لپیٹ میں ہے، جو نئے ویرینٹ اومیکرون کی صورت میں اب عالمی سطح پر لوگوں کو خوف زدہ کر رہی ہے۔

ماہرین ایک طرف 50 تبدیلیوں والی نئی کرونا قِسم کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا یہ 2 تبدیلیوں والے ویرینٹ ڈیلٹا کے مقابلے میں زیادہ شدید اور متعدی ثابت ہوگا، یا آخر کار کرونا وائرس تبدیلیوں سے گزرتا ہوا منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے، یعنی کم زور ہو گیا ہے۔

دوسری طرف، جب کہ اومیکرون ویرینٹ آسٹریلیا بھی پہنچ گیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی لہر کا خوف لوگوں کے خیالات میں طوفان کا باعث بن سکتا ہے، کیوں کہ لوگ پُرامید ہو گئے تھے کہ اب وہ جلد ہی اپنے خوف سے پیچھا چھڑا لیں گے۔

ایسے میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے اسکول آف سائیکلوجیکل سائنس میں ریسرچ فیلو جیولی جی بتاتی ہیں کہ آسٹریلیا کے کرائسز سپورٹ سروس لائف کے ہیلپ لائن پر صرف ماہِ اگست ماہ میں روزانہ اوسطاً 3 ہزار 505 کالز کی گئیں، یہ کالیں مختلف پریشانیوں میں مبتلا شہریوں نے کیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ملک کی 57 سال کی تاریخ میں روزانہ کی جانے والی کالوں کی تعداد میں سب سے زیادہ ہے، جب کہ اس سال کے آغاز سے 6 لاکھ 94 ہزار 4 سو پریشان آسٹریلوی شہریوں نے مدد کے لیے اس لائف لائن پر کال کیا۔

جیولی کے مطابق ان میں سے زیادہ تر کالز معاشی مشکلات، خراب رشتہ، اکیلا پن اور خود کشی کی کوشش جیسے مسائل سے متعلق تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں