جمعہ, دسمبر 5, 2025
اشتہار

پنڈت کیفی: اردو کے ایک محسن کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

برج موہن دتاتریہ کو اردو زبان کا عاشق کہا جاتا ہے۔ متحدہ ہندوستان میں‌ برطانوی راج کے دوران اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے انھوں نے خوب کام کیا۔ وہ ایک ادیب، شاعر، ناول و ڈرامہ نگار اور انشا پرداز بھی تھے۔ انھوں نے لسانیات کے موضوع پر بھی اپنی تصانیف کی شکل میں بڑا خزانہ یادگار چھوڑا ہے۔

وہ کشمیر النّسل پنڈت تھے جنھیں شان دار شخصیت اور نہایت مہذب و ملنسار انسان کہا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک وصف یہ تھا کہ وہ ہر قسم کے تعصب اور تفاخر سے پاک تھے۔ وہ ہندوستان کے ان اہل قلم میں سے تھے جو اس دور میں زبان کی بنیاد پر تعصب اور کسی بھی تفریق کے مخالف رہے۔ انھوں نے اردو کے مخالف ہندوؤں کو بھی بڑی محبت اور رواداری سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسے صرف مسلمانوں کی زبان کہہ کر نہ ٹھکرائیں۔ ان کے والد پنڈت کنہیا لال ریاست نابھ میں پولیس افسر تھے۔ برج موہن دتاتریہ چھوٹے تھے جب والد چل بسے۔ برج موہن نے ان کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد بڑی محنت اور لگن سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ اور بعد میں‌ الطاف حسین حالی کے شاگرد ہوئے۔

پنڈت کیفی کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ وہ کم عمری ہی میں شعر کہنے لگے تھے۔ اس دور میں‌ غزل گوئی سے آغاز کیا مگر پھر جدید رجحانات اور تحریکات کے زیرِ اثر نیچرل شاعری کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے تقریباً ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی لیکن غزل کے بعد نظم ہی ان توجہ کا مرکز رہی۔ پنڈت کیفی نے لسانیاتی موضوع پر مضامین بھی لکھے جو کیفیہ کے نام سے سنہ 1942ء میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ اس کتاب کو اردو لسانیات کے ابتدائی اہم کاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ علمِ لسانیات، قواعد، محاورہ اور روز مرہ سے برج موہن دتاتریہ کو ابتدا ہی سے دل چسپی تھی۔ انھوں نے انشا کی کتاب ”دریائے لطافت” ترجمہ بھی کیا اور پنڈت کیفی کا یہ ترجمہ بہت سلیس، رواں اور بامحاورہ ہے۔

معروف شاعر، افسانہ نگار اور فلم ساز خلیق ابراہیم خلیق نے پنڈت برج موہن دتاتریہ کے بارے میں لکھا، انجمن ترقی اردو (ہند) کا مرکزی دفتر حیدر آباد دکن سے دہلی منتقل ہوا تو وہ انجمن کے ہمہ وقتی رکن بن گئے اور اردو کی ترقی اور فروغ کی کوششوں میں بابائے اردو کا ہاتھ بٹانے لگے۔ بڑے عالم فاضل شخص تھے۔ اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر تو عبور رکھتے ہی تھے، سنسکرت اور ہندی میں بھی خاصی استعداد تھی۔ اعلیٰ پائے کے ادیب اور شاعر تھے۔

ابتدا میں اپنے کلام(شاعری) پر انھوں نے مولانا حالی سے اصلاح لی تھی۔ تنقید میں بھی حالی کی پیروی کرتے تھے۔ معاش کے لیے پنڈت کیفی نے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ عرصہ دراز تک کشمیر میں قیام پذیر رہے۔ کچھ عرصہ لائل پور (موجودہ فیصل آباد) میں بھی گزارا۔ ان کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ جہاں بھی رہے وہاں کے شاعر اور ادیب ان کے پاس آئے اور ان کی صحبت سے فیض اٹھایا۔

پنڈت کیفی ان بوڑھوں میں سے تھے جن کی صحبت میں بوڑھوں، جوانوں، بچوں سبھی کا دل لگتا۔ میری ان سے خاصی دوستی ہوگئی تھی۔ دلّی تو ان کا گھر ہی تھا۔ اس کے چپے چپّے کی تاریخ سے وہ واقف تھے۔ اپنے بچپن اور جوانی کی دلّی کے قصے مزے لے لے کے سنایا کرتے تھے۔ کشمیر اور لائل پور کے بھی قصے سناتے اور لائل پور کے اپنے بعض دوستوں اور شاگردوں کا ذکر بہت محبت سے کرتے تھے۔

پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی نے ادب و شعر کی مختلف اضاف میں متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے بعض نصاب میں بھی شامل رہیں۔ وہ 13 دسمبر 1866ء کو دہلی میں پیدا ہوئے اور یکم نومبر 1955 کو دہلی کی ایک نواحی بستی غازی آباد میں وفات پائی۔

اردو زبان کے اس عاشق کی تصانیف میں منشورات (لیکچرز و مضامین، 1934ء)، واردات (شعری مجموعہ، 1941ء)، پریم ترنگنی (مثنوی)، توزک ِ قیصری (منظوم تاریخِ ہند، 1911ء)، راج دلاری (ڈراما، 1930ء)، خمسۂ کیفی (اُردو زبان سے متعلق مقالات و منظومات، انجمن ترقی اُردو (ہند) دہلی، 1939ء)، اُردو ہماری زبان (1936ء)، نہتا رانا یا رواداری (تاریخی ناول،1931ء)، بھارت درپن (ڈراما) و دیگر شامل ہیں۔

پنڈت کیفی کے سانحۂ ارتحال پر ڈاکٹر زور نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ”ان کی وفات سے اردو دنیا ایک ایسے محسن سے محروم ہو گئی ہے جس کا بدل ملنا ممکن نہیں ہے۔ اردو میں شاعر، ادیب، ماہر لسانیات اور عروض و قواعد کے جد اجدا ماہر پیدا ہوتے رہیں گے۔ لیکن شاید ہی کوئی ایسا پیدا ہو جو ان سب میں پنڈت کیفی کی طرح ایک خصوصی اہمیت کا مالک ہو۔”

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں