The news is by your side.

Advertisement

حمق کا عارضہ….

ادب نگری میں فسانہ آزاد کو ناول اور بعض ناقدین نے داستان شمار کیا ہے۔ اسے اردو ادب کے عہدِ اولین کا ایک خوب صورت نقش ضرور تسلیم کیا جاتا ہے جس کے مصنف پنڈت رتن ناتھ سرشار کشمیری ہیں۔ کہتے ہیں یہ 1878 کا ناول ہے جو 1880 میں پہلی بار کتابی شکل میں شایع ہوا۔

اس کا ہیرو ’’آزاد‘‘ ایک ذہین بانکا اور خو برو نوجوان ہے جو علم و فن میں یکتا ہے۔ جہاں گشت ہے اور ایک دوشیزہ پر دل و جان سے فدا ہوجاتا ہے جو اسے دنیا میں نام ور اور مشہور ہونے کو کہتی ہے، تب یہ نوجوان میدانِ جنگ میں شجاعت اور جواں مردی دکھاتا ہے اور بدیس میں اس کا چرچا ہوتا ہے۔

اس داستان کو مختلف عنوانات کے تحت سمیٹا گیا ہے جس کا یہ ٹکڑا آپ کی دل چسپی اور توجہ کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ یہ اس داستان کے ہیرو کا غم کے ایک موقع پر دوسرے کردار سے مکالمہ ہے۔

حمق کا عارضہ

۔۔۔۔میاں آزاد کا دل بھر آیا۔ رقیق القلب تو تھے ہی آٹھ آٹھ آنسو روئے۔ ایک مرد آدمی سے جو قریب بیٹھے تھے، پوچھا: یاحضرت! بھلا یہ پیر مرد کس عارضے میں مبتلا تھے۔

اس نے آہ سرد کھینچ کر کہا کہ یہ نہ پوچھیے حمق کا عارضہ تھا۔

کیا حمق، یہ کون سا عارضہ ہے؟

صاحب قانونچے میں اس کا کہیں پتا نہیں۔ طبِ اکبر میں اس کا ذکر بھی نہیں. یہ نیا عارضہ ہے۔ جی اُمّ العوارض ہے۔

ذرا اس کے علامات تو بتائیے؟

اجی حضرت کیا بتاؤں۔ عقل کی مار اس کا خاص باعث ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں