The news is by your side.

Advertisement

ہینڈ پمپ جس نے زندگی سے کچھ وصول کرنے کا ڈھنگ سکھایا

اپنے امرتسر کے قیام کی ایک اور بات میں کبھی نہیں بھول پایا۔ ماسٹر جی کے گھر کے سامنے بہت بڑے کھلے آنگن میں ایک ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا جس کو ضرورت ہوتی وہ پمپ کے ہینڈل کو گھما کر پانی نکال لیتا۔

میں اکثر اس چکر میں پڑا رہتا، لیکن مجھ سے اس میں سے پانی نہ نکالا جاتا۔ پھر میری ماں نے مجھے بتایا کہ اس پمپ سے پانی نکالنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں پہلے ایک لوٹا پانی ڈالا جائے۔ ایک لوٹا پانی ڈالنے کے بعد پانی چھپا چھپ نکلنے لگتا۔

جب بھی مجھے ماسٹر تارا سنگھ صاحب کے آنگن میں لگے اس پمپ کی یاد آتی ہے تو مجھے ہمیشہ یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی سے کچھ وصول کرنے کا ڈھنگ یہی ہے کہ پہلے زندگی کو اپنی طرف سے کچھ دیا جائے۔ بندہ پہلے اپنا حصّہ ڈالتا ہے اور پھر زندگی اپنی سخاوت کے پَٹ کھول دیتی ہے۔

(یہ پارہ پنجابی زبان کے مشہور شاعر اور ناول نگار کرتار سنگھ دگل کی آپ بیتی سے منتخب کیا گیا ہے، جن کا تعلق بھارت سے تھا، اس کا اردو ترجمہ رتن سنگھ نے کیا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں