The news is by your side.

Advertisement

پنج شیر میں‌ جھڑپیں، طالبان کا علاقے کے کنٹرول کا دعویٰ

کابل: افغانستان کی وادی پنج شیر میں طالبان جنگجوؤں اور مزاحمتی گروپ کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق پنج شیرکے داخلی دروازےگلبہار میں طالبان جنگجوؤں اور مزاحمتی گروپ کے دوسرے روز بھی جھڑپیں ہوئیں، جس میں دونوں گروپوں نے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا۔

افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جھڑپ شروع اور لشکر کشی میں پہلی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہمارےجنگجو نے پنج شیر ویلی میں داخل ہوکر مختلف علاقوں کاکنٹرول حاصل کرلیا ہے‘۔ انہوں نے آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات میں ناکامی اور باغیوں کے ہتھیار نہ ڈالنے پر کارروائی کا آغاز کیا ہے‘۔

مزید پڑھیں: پنج شیر تنازع، طالبان معاملہ پُرامن حل کرنے کے خواہش، جنگجوؤں کا ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان

یہ بھی پڑھیں: طالبان کی افغان صوبے ’پنج شیر‘ پر چڑھائی

دوسری جانب طالبان کمانڈرجنرل مبین نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’طالبان وفداور مزاحمتی گروپ کے سربراہ احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ہوئے، بات چیت میں انہوں نے غیر معقول اور نہ مانے جانے والے مطالبات رکھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’احمدمسعودکہتےہیں ان کے پاس موجودہتھیار واپس نہ لیے جائیں، وہ نئی حکومت میں تیس فیصد شراکت داری مانگ رہے ہیں، احمد مسعود نے پنج شیر میں اپنا کنٹرول اور اپنے من پسند افراد کی تعیناتی چاہتے ہیں‘۔

طالبان کمانڈ نے بتایا کہ ’احمد مسعود نے یہ مطالبہ بھی رکھا کہ بیرون ملک سےہمارےپاس آنے والوں پرنظرنہیں رکھی جائےگی‘۔ جنرل مبین نے کہا کہ احمد مسعود کے مطالبات ناقابل تسلیم ہیں، ہمارے جنگجو وادی میں داخل ہوگئے اور جلد پنج شیر کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں