site
stats
انٹرٹینمںٹ

الفریڈ ہچکاک کی فلموں کی ننھی منی تخلیق

آپ نے یوں تو آرٹ کے کئی نمونے دیکھے ہوں گے لیکن آج جو نمونہ ہم آپ کو دکھانے جارہے ہیں وہ اپنی نوعیت کا منفرد آرٹ ہے۔

یہ کارنامہ ایک چھوٹے سے آرٹسٹ کا ہے جو نہ صرف معروف فلم ساز الفریڈ ہچکاک کا دیوانہ ہے بلکہ یہ ان کی 70 اور 80 کی دہائی میں آنے والے فلموں کے کاغذی منی ایچرز بنا رہا ہے۔

وہ نہ صرف فلموں کے سین بلکہ اپنے آس پاس کے مختلف مناظر، خواب اور اپنے تصورات کو بھی منی ایچرز کی شکل میں ڈھالتا ہے۔

یاد رہے کہ الفریڈ ہچکاک ہالی ووڈ کے مشہور فلم ساز اور ہدایت کار تھے جو پراسراریت پر مبنی اور پر تجسس فلمیں بنانے کے لیے مشہور تھے۔


سائیکو

الفریڈ ہچکاک کی فلم سائیکو 60 کی دہائی میں آئی جو سسپنس سے بھرپور ہے۔

اس میں ایک ذہنی مریض کی کہانی بیان کی گئی ہے، لیکن وہ کون ہوتا ہے، اس کا اندازہ سب کو آخر میں جا کر ہوتا ہے۔


ورٹیگو

ہچکاک کی ایک اور فلم ورٹیگو پراسراریت پر مبنی ہے اور یہ فلم ہر دور کی بہترین فلم مانی جاتی ہے۔

اس میں ایک جاسوس کا واسطہ ایک ایسے دولت مند سے پڑتا ہے جو اپنی بیوی کو اس کے ذریعے مرواتا ہے، لیکن آخر میں کھلتا ہے کہ اس دولت مند شخص نے اپنی مردہ بیوی کی موت کو باقاعدہ منظر عام پر لانے کے لیے کسی دوسری عورت کی شکل میں یہ سارا ڈرامہ رچایا۔


ریئر ونڈو

یہ فلم بھی الفریڈ ہچکاک کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ہے جسے اس آرٹسٹ نے منی ایچر میں ڈھالا۔

اس فلم میں ٹانگوں سے معذور ایک فوٹو گرافر اپنے پڑوسیوں کی کھڑکی سے نظر آنے والے مختلف مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتا ہے۔ تاہم اس وقت فلم میں ایک ڈرامائی موڑ آجاتا ہے جب وہ ایک قتل کی واردات کو عکس بند کر لیتا ہے۔


دی برڈز

ہچکاک کی فلم دی برڈز پرندوں کے تباہ کن حملے پر مبنی ہے۔

اس میں 2 معصوم سے پرندے اچانک خونخوار ہوجاتے ہیں اور وہاں موجود لوگوں پر حملہ کردیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ حملہ آور پرندے پورے شہر میں پھیل جاتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top