The news is by your side.

Advertisement

پیراگوائے کا متنازع فیصلہ، سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل

امریکا اور گوئٹے مالا کے بعد پیراگوائے یہ قدم اٹھانے والا تیسرا ملک ہے

جنوبی امریکا کے ملک پیراگوائے نے ٹرمپ انتظامیہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پیراگوائے نے اسرائیل میں‌ قائم اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کر لیا. پیروگوائے کے صدر ہوراسیو کارتس نے منتقلی کے بعد سفارت خانے کا افتتاح کیا۔ 

یاد رہے کہ امریکا اور گوئٹے مالا کے بعد پیراگوائے تیسرا ملک ہے جس نے اسرائیل میں اپنے سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا ہے، گوئٹے مالا نے بدھ کے روز اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کیا تھا۔

گوئٹے مالا کے صدر جیمی مورالیس کے فیصلے پر امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے دو روز بعد عمل درامد ہوا، جس کے بعد مراکش اور گوئٹے مالا کے تعلقات میں‌ کشدگی آگئی اور مراکش نے گوئٹے مالا سے اپنے تمام تجارتی تعلقات منقطع کر دیے.

واضح رہے کہ پیراگوائے کے موجودہ صدر ہوراسیو کارتس کی مدت صدارت بھی دو ماہ بعد ختم ہوجائے گی، جس کے بعد لبنانی نژادماریو بنٹیز اقدار سنبھالیں گے۔

خیال رہے کہ امریکا سفارت خانے کے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے بعد سے غزہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، اسرائیلی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے 59 فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا جبکہ آنسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں 2700 افراد زخمی ہوگئے تھے۔


فلسطینی مظاہرین کو دہشت گرد کہنا توہین آمیز ہے، روسی وزیر خارجہ


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں